معرفت کی پہچان۔ ماہنامہ الرسالہ، ستمبر 2010 میں، 12 صفحات پر مشتمل ایک طویل مقالہ چھپا ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے: "معرفت، مقصدِ انسانیت"۔ اس کو پڑھ کر ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا، انہوں نے کہا کہ الرسالے کا یہ مضمون مجھ کو بہت پسند آیا۔
اب یہ سوال ہے کہ معرفت کی پہچان کیا ہے؟ یعنی کوئی شخص کیسے یہ سمجھے کہ اس کو وہ چیز حاصل ہوئی ہے جس کو دین میں معرفت کہا جاتا ہے؟ میں نے کہا کہ قرآن میں اس کی پہچان بتا دی گئی ہے، اور وہ ذکرِ کثیر، سورہ نمبر 33 آیت 41 ہے۔ یعنی بہت زیادہ خدا کو یاد کرنا۔
معرفت دراصل رب العالمین کی ڈسکوری ہے۔ جب رب العالمین کی ڈسکوری، یعنی دریافت، کسی کو معرفت کے درجے میں حاصل ہو جائے، تو اس کے بعد اس کے اندر ایک گہرا ذہنی انقلاب آ جاتا ہے۔ اب خدا ہی اس کی سوچ کا مرکز و محور بن جاتا ہے۔ ایسا انسان صبح و شام خدا کو یاد کرتا ہے۔
وہ ہر لمحہ اس کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ اسی کا چرچا کرتا ہے۔ یہی اس کے وجود کی سب سے زیادہ نمایاں پہچان بن جاتی ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ کسی شخص کو اگر کوئی ایسی چیز مل جائے جس کو وہ بہت بڑی چیز سمجھتا ہو، تو وہ خود اپنے فطری تقاضے کے تحت اس کا بہت زیادہ چرچا کرتا ہے۔
اس کو اس چیز کی یاد میں اتنی لذت ملتی ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ اسی کے بارے میں سوچتا اور بولتا رہے۔ یہی معاملہ خداوند عالم کی معرفت کا ہے۔ جب کسی شخص کو دریافت کے درجے میں اللہ کی معرفت ہو جائے، تو یہ معرفت اس کے ذہن پر چھا جاتی ہے۔ اپنے فطری تقاضے کے تحت وہ اسی کے بارے میں سوچتا ہے، اسی کے بارے میں بولتا ہے۔
حتیٰ کہ اپنی تنہائیوں میں وہ اسی کے تصور میں غرق رہتا ہے۔ اس کا ہر تجربہ اس کے لیے خدا کی معرفت میں ڈھل جاتا ہے۔ جب کسی انسان کا یہ حال ہو جائے، تو یہ اس بات کی پہچان ہے کہ اس کو وہ ربانی رزق عطا ہوا ہے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 33۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.