Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Aala marifat ka zariah.

Urdu · 4 min

اعلیٰ معرفت کا ذریعہ اعلیٰ معرفت ہمیشہ اعلیٰ سوچ، یعنی ہائی تھنکنگ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ خدا کے بارے میں، خدا کے کلام کے بارے میں، خدا کی تخلیقات کے بارے میں آدمی جتنا زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچے، اتنا ہی زیادہ گہری معرفت تک وہ پہنچے گا۔ معرفت کا فارمولا ایک لفظ میں یہ ہے: جتنی گہری سوچ، اتنی ہی گہری معرفت۔ قرآن میں اس گہری سوچ کے لیے مختلف الفاظ آئے ہیں، مثلاً تفکر، تدبر، تبسم، اور تعقل وغیرہ۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز کے اندر غور و فکر کا سامان موجود ہے، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔ اگر چیزوں کو سادہ طور پر نہ لیا جائے، بلکہ ان پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے، تو ہر چیز آدمی کے لیے معرفت کی غذا بن جائے گی۔ اسی حقیقت کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: «برگ درختانِ سبز در نظرِ هوشیار، هر ورقِ دفترست معرفتِ کردگار». مثلاً آدمی روزانہ زمین پر چلتا ہے، مگر وہ سوچتا نہیں۔

اگر وہ سوچے تو یہ چلنا اس کے لیے معرفت کا خزانہ بن جائے۔ زمین پر چلنا بظاہر ایک سادہ بات ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ چلنے کا یہ واقعہ خالق کا ایک انوکھا معجزہ ہے۔ یہ چلنا اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ بے شمار اسباب نہایت ہم آہنگی کے ساتھ ہماری مدد کر رہے ہوتے ہیں: زمین کی بے حد متوازن قوتِ کشش، یعنی ویل بیلنسڈ گریویٹی، ہمارے جسم کے اوپر چاروں طرف سے ہوا کا دباؤ۔

ہوا کا یہ دباؤ ہمارے جسم کے ہر مربع انچ پر تقریباً 8 کلو گرام کے برابر ہوتا ہے، اور پورے جسم پر مجموعی طور پر تقریباً 10,000 کلو گرام کے برابر۔ جب انسان زمین پر چلتا ہے تو اس کو غیر منقطع طور پر مسلسل آکسیجن فراہم کیا جا رہا ہوتا ہے۔ وسیع خلا سے سورج ہماری راہوں کو روشن کرتا رہتا ہے۔ اس طرح کے ان گنت اسباب ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ہمارے مددگار بنے رہتے ہیں۔

تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسان زمین پر چلے اور کامیابی کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔ ہماری دنیا میں اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں۔ ان چیزوں پر غور و فکر کرنا ہی اعلیٰ معرفت کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 32۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.