معرفت کے درجات: قدیم زمانے میں انسان صرف برہنہ آنکھ سے دیکھ سکتا تھا؛ اس وقت آسمان کے بارے میں انسان کا تصور بہت محدود تھا۔ برہنہ آنکھ سے صرف یہ نظر آتا تھا کہ آسمان میں تقریباً 5000 چھوٹے چھوٹے ستارے موجود ہیں۔ اس کے بعد اٹلی کے سائنسدان گلیلیو وفات 1642 نے 1609 میں پہلی بار دوربین کے ذریعے آسمان کا مشاہدہ کیا، تو معلوم ہوا کہ آسمان کے ستارے اپنے سائز اور تعداد کے اعتبار سے اس سے بہت زیادہ ہیں جتنا کہ وہ خالی آنکھ سے دکھائی دیتے تھے۔ گلیلیو کی دوربین ابتدائی دور کی بہت چھوٹی دوربین تھی۔
اس کے بعد اس فن میں کافی ترقی ہوئی۔ کیلیفورنیا، امریکہ میں پیلمار پہاڑ، یعنی ماؤنٹ پیلمار کے اوپر 1949 میں ایک بڑی دوربین نصب کی گئی، جس کا ڈایا میٹر 200 انچ تھا۔ اس دوربین کے ذریعے ممکن ہو گیا کہ بہت زیادہ دور تک آسمانی اجرام کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ اس کے بعد 1990 میں امریکہ میں ہبل ٹیلیسکوپ تیار کیا۔
ہبل ٹیلیسکوپ زمینی دوربین نہیں تھی، وہ ایک سیاراتی دوربین تھی۔ وہ زمین سے تقریباً 400 میل اوپر جا کر مسلسل خلا میں گھوم رہی ہے۔ اس میں مخصوص قسم کی دوربین اور کیمرہ لگا ہوا ہے۔ یہ نظام خلا سے حاصل شدہ معلومات اور تصاویر زمینی اسٹیشن پر مسلسل بھیجتا رہتا ہے۔
ہبل ٹیلیسکوپ نے خلا کے بارے میں انسان کے مشاہدے کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ یہ مادی مشاہدے کی بات ہے، جس طرح مادی معرفت کے بارے میں انسانی مشاہدے کے مختلف درجات ہیں، اسی طرح خدا کے بارے میں بھی انسانی معرفت کے مختلف درجات ہیں۔ کسی انسان کو جس درجے کی خدائی معرفت ہوگی، اسی درجے کا ایمان اس کو حاصل ہوگا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی معرفت کے درجات کو بڑھائے۔
وہ مسلسل اس کوشش کرتا رہے۔ جس طرح خدا کی تجلیات کی کوئی حد نہیں، اسی طرح معرفتِ خداوندی کی بھی کوئی حد نہیں۔ کسی آدمی کو جس درجے کی معرفت حاصل ہوگی، اسی اعتبار سے آخرت کی جنت میں اس کا درجہ مقرر کیا جائے گا، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 31۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.