ذہنی افق، ذہنی افق، یعنی انٹلیکچول ہورائزن کے کئی درجے یا کئی سطحیں ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ معاملہ افق، بالائے افق کا معاملہ ہے۔ اعلیٰ حقیقتوں کا ادراک صرف وہ افراد کر سکتے ہیں جو اعلیٰ ذہنی افق کے مالک ہوں۔ کمتر ذہنی افق کے لوگ اعلیٰ حقیقتوں سے آشنا نہیں ہو سکتے۔
یہی معاملہ ایمان کا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ صحابہ کی مثال قابلِ ذکر ہے جو حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ مثلاً عمر بن الخطاب، وفات 23 ہجری؛ معاذ ابن جبل، وفات 18 ہجری؛ عبداللہ ابن رواحہ الانصاری، وفات 8 ہجری۔ ان حضرات کا طریقہ تھا کہ وہ بعض صحابہ کے ساتھ بیٹھ کر اللہ کا چرچہ کرتے اور کہتے کہ ایسا ہم اضافۂ ایمان کے لیے کر رہے ہیں۔
ایک بار عبداللہ ابن رواحہ نے ایک صحابی سے کہا کہ آؤ ہم ایک ساعت کے لیے ایمان لائیں۔ وہ صحابی غصہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ کیا ہم مومن نہیں ہیں؟ پھر وہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔
انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ عبداللہ ابن رواحہ آپ پر ایمان کے بعد ایک ساعت کا ایمان حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ ابن رواحہ پر رحم کرے۔ وہ ایسی مجلسوں کو پسند کرتے ہیں جن پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں۔ " رحم الله ابن رواحہ، إنه يحب المجالس التي تتباهى بها الملائكة.
حیات الصحابہ، باب ایمان الصحابة بالغیب، مجالس الایمان، جلد 3، صفحہ 13۔ ایمان باللہ کا ابتدائی درجہ وہ ہے جو کلمۂ شہادت ادا کرنے کے بعد کسی آدمی کو حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن ایمان باللہ ایک اضافہ پذیر چیز ہے۔ چنانچہ قرآن میں ایمان کو پودے سے تشبیہ دی گئی ہے جو مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔
ابراہیم 24:25۔ ایک مومن جب اللہ کے بارے میں سوچتا ہے، جب وہ اس موضوع کا مطالعہ کرتا ہے، جب وہ اس پہلو سے کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے، تو اس عمل کے دوران اللہ پر اس کا یقین بڑھتا رہتا ہے۔ وہ اللہ کی اعلیٰ صفات کی بار بار دریافت کرتا رہتا ہے۔ اس کو بار بار یقین و ایمان کی نئی خوراک ملتی رہتی ہے۔
یہ وہ اہل ایمان ہیں جو اعلیٰ ذہنی افق پر ایمان باللہ کا تجربہ کرتے ہیں۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 30۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.