فکری اعتکاف۔ اک اعتکاف وہ ہے جو رمضان کے مہینے میں مسجد کے اندر کیا جاتا ہے۔ اس اعتکاف کا ذکر قرآن کی سورہ البقرہ میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ سورہ نمبر 2، آیت 187۔ دوسرا اعتکاف فکری اعتکاف، یعنی intellectual seclusion ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ كان رسولُ الله صلى الله عليه وسلم متواصلُ الأحزان، دائمُ الفِكْرَ الشمائل للترمذی رقم الحدیث 225۔ اس سے مراد یہی فکری اعتکاف ہے، یعنی خاموشی کے ساتھ سوچتے رہنا۔ مسجد کا اعتکاف minimum اعتکاف ہے، اس کے برعکس ذہنی اعتکاف maximum اعتکاف۔ صحابہ کے درمیان اس ذہنی اعتکاف کا عام رواج تھا۔
بعض صحابہ کے بارے میں صراحتاً اس کی مثال ملتی ہے: حضرت مثلاً حضرت ابو دردہ انصاری کے بارے میں، ان کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ ام الدردہ سے پوچھا گیا کہ ابو دردہ کی خاص عبادت کیا تھی؟ ام الدردہ نے جواب دیا کہ التفکر والاعتبار، یعنی غور کرنا اور نصیحت پکڑنا۔ یہ فکری اعتکاف وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں: تفکر، تدبر، تذکر، تبسم، اور تعقل وغیرہ۔ اس سے مراد ہے چیزوں پر سوچنا۔
سوچنے کا یہ عمل بے حد اہم ہے۔ سوچنے کے عمل سے تمام اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں، مثلاً حکمت، معرفت، ذہنی ارتقاء، ازدیادِ ایمان، گہرے معانی کی دریافت وغیرہ۔ یہ فکری اعتکاف کسی مومن کے لیے بے حد اہم ہے، مگر اس کی ایک لازمی شرط ہے، اور وہ ہے ہر قسم کے distraction سے اپنے آپ کو بچانا۔ اس کے بغیر فکری اعتکاف کسی آدمی کے لیے ممکن نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ذہنی اعتکاف ایک مسلسل فکری عمل کا نام ہے۔ اسی فکری عمل سے وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو قرآن میں ازدیادِ ایمان کہا گیا ہے۔ فکری عمل نہیں تو ازدیادِ ایمان بھی نہیں۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 29۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.