ایمان کی شاخیں— عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الإيمان بضع وسبعون شعبة، فأفضلها قول لا إله إلا الله، وأدناها إماطة الأذى عن الطريق، والحياء شعبة من الإيمان." صحیح مسلم، رقم الحدیث 162۔ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ایمان کی 70 سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے اعلیٰ درجہ لا إله إلا الله کہنا ہے، اور اس کا ادنیٰ درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے، اور حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے۔ " اس حدیث کو کچھ لوگوں نے حسابی معنی میں لے لیا، اور گنتی کے لحاظ سے وہ اس کی تشریح کرنے لگے۔ مثلاً ابو عبداللہ الحلیمی، وفات 403 ہجری، جو بخارا میں شوافع کے امام تھے، انہوں نے "المنہاج فی شعب الإيمان" کے نام سے ایک مفصل کتاب اس حدیث کی تشریح میں لکھی ہے۔
انہوں نے ایمان کے 77 شعبے شمار کیے ہیں، اور اسی نسبت سے کتاب میں 77 باب قائم کیے ہیں۔ اسی طرح حافظ ابوبکر البیہقی، وفات 358 ہجری، کی کتاب اس موضوع پر بہت مشہور ہے، جس کا نام "الجامع المصنف فی شعب الإيمان" ہے۔ حافظ ابن حجر نے قلبی اعمال، لسانی اعمال، اور بدنی اعمال کی تقسیم کر کے ایمان کی 69 شاخیں شمار کی ہیں، وغیرہ۔ مگر اس حدیث کی شماریاتی تشریح درست نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ایک بڑے درخت کی شاخوں کی گنتی نہیں کی جا سکتی، اسی طرح ایمان کی شاخوں کی بھی کوئی گنتی نہیں۔ ایمان کا آغاز اللہ کی معرفت سے ہوتا ہے، جب ایک انسان پر اللہ رب العالمین کی حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے تو گویا اس کی روحانی زمین میں ایک ربانی بیج بو دیا جاتا ہے۔ یہ بیج بڑھتا ہے، وہ شاخیں نکالتا ہے، آدمی کی سوچ سے لے کر اس کے قول و فعل تک ہر چیز میں اس کا رنگ شامل ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں ایمان کی شاخوں سے مراد ایمان کے مظاہر، یعنی manifestations ہیں۔
ایمان جب کسی آدمی کے قلب و دماغ میں شامل ہو جاتا ہے تو آدمی کی پوری شخصیت میں اس کا ظہور ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ انگنت حد تک پہنچ جاتا ہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 28۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.