نصیحت پذیری: کسی انسان کو جب حق کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی سوچ ایمانی سوچ بن جاتی ہے، تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ انسان بن جاتا ہے۔ اسی ایمانی سنجیدگی کا ایک پہلو وہ ہے جس کو نصیحت پذیری کہا جا سکتا ہے۔ قرآن میں اس کے لیے مختلف الفاظ آئے ہیں، مثلاً تذکر سورہ نمبر 39 آیت 9، اعتبار سورہ نمبر 23 آیت 21، توسم سورہ نمبر 15 آیت 75 وغیرہ۔ اسی طرح حدیث میں بھی اس قسم کے الفاظ وارد ہوئے ہیں، مثلاً: أن يكون السمط فكرًا والنظر عبرًا، جامع الاصول فی احادیث الرسول رقم الحدیث 9317۔
یعنی میری خاموشی سوچ کی خاموشی ہو، اور میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔ ایمان یا حق کی معرفت بھی بذاتِ خود اسی نوعیت کی ایک چیز ہے۔ ایمانی معرفت کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ آدمی مخلوقات پر غور کر کے خالق کو دریافت کرے۔
وہ دیکھنے والی دنیا کے اندر غیب کی دنیا کو پا لے۔ قرآن کے الفاظ میں وہ آیات یعنی خارجی نشانیوں کے ذریعے داخلی حقیقتوں کو جان لے۔ وہ بصارت کے ساتھ بصیرت کی استعداد حاصل کر لے۔ تدبر و تفکر مومن کا عام مزاج ہوتا ہے۔
اس کا یہ مزاج ہمیشہ اور ہر جگہ قائم رہتا ہے۔ یہ مزاج اس کو دائمی طور پر اللہ کو یاد کرنے والا بنا دیتا ہے۔ وہ ہر دن ایسی باتیں دریافت کرتا رہتا ہے جو اس کے ایمان و یقین میں اضافہ کرنے والی ہوں۔ دوسرے لوگ ظواہر میں صرف ظواہر کو دیکھتے ہیں، مگر مومن اپنے اس مزاج کی بنا پر ظواہر میں حقائق کو دریافت کر لیتا ہے۔
تدبر اور تفکر کے اس عمل کے لیے کسی تنہائی یا مخصوص مقام کی ضرورت نہیں۔ یہ عمل مومن کے دماغ میں ہر لمحہ جاری رہتا ہے، حتیٰ کہ دنیا کے بھرے ہوئے ہنگاموں میں بھی وہ اس سے منقطع نہیں ہوتا۔ سورہ نمبر 24 آیت 37: نصیحت پذیری مومن کی روحانی خوراک ہے۔ مومن کے لیے مادی غذا اگر جسمانی تقویت کا ذریعہ ہے، تو عبرت و نصیحت اس کے لیے روحانی غذا کی حیثیت رکھتی ہے۔
مادی غذا کے بغیر جسم صحت مند نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح فکری غذا کے بغیر روحانیت کا ارتقاء ممکن نہیں۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 27۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.