Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jihaad fillah.

Urdu · 4 min

جہاد فی اللہ۔ قرآن کی سورہ العنکبوت میں ایک آیت آئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: "جو لوگ اللہ میں جہاد کریں گے، ان کو اللہ ضرور اپنے راستے دکھائے گا۔ " سورہ نمبر 29، آیت 69۔ قرآن کی اس آیت میں "جہاد فی سبیل اللہ" نہیں ہے، بلکہ "جہاد فی اللہ" ہے۔

یعنی یہاں اللہ کے راستے میں جہاد نہیں، بلکہ اللہ میں جہاد۔ سورہ العنکبوت ہجرتِ حبشہ 5 نبوی سے پہلے اتری، اس لیے یہ واضح ہے کہ اس آیت میں جہاد سے مراد قتال نہیں ہے۔ اسی طرح اس آیت میں جہاد سے مراد احکامِ الہی کی عملی اطاعت بھی مراد نہیں ہو سکتی، کیونکہ ایسا کوئی لفظ یہاں موجود نہیں۔ اس آیت میں جہاد فی اللہ کے نتیجے میں حاصل ہونے والی چیز کو ہدایت کہا گیا ہے، اس لیے اس آیت میں جہاد فی اللہ کا کوئی ایسا مطلب مراد ہوگا جس کا تعلق ہدایت سے ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی اس آیت میں جہاد سے مراد جہادِ فکری ہے، یعنی اللہ کے بارے میں سوچنا، اللہ کے بارے میں تفکر اور تدبر کرنا۔ اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا، مسلسل مطالعہ اور مشاہدے کے ذریعے اپنے ایمان میں اضافہ کرتے رہنا، وغیرہ۔ دین کا آغاز معرفت سے ہوتا ہے، یعنی مخلوقات میں غور و فکر کے ذریعے خالق کو پہچاننے کی کوشش کرنا۔ کلامِ الہی کا مطالعہ کر کے اس سے مسلسل ذہنی غذا حاصل کرنا، اپنے روزمرہ کے تجربات کو ربانی بصیرت میں ڈھالنا، وغیرہ۔

اس قسم کا غور و فکر کامل یکسوئی کے ذریعے ہوتا ہے، اور کامل یکسوئی یعنی کنسنٹریشن بلاشبہ ایک عظیم جہاد ہے۔ "ہم ضرور ان کو اپنے راستے دکھائیں گے" اس سے مراد ہدایت کے راستے ہیں، یعنی ایسے لوگوں کا ذہن زیادہ سے زیادہ کھلے گا، ان کے اندر نئی سوچ جاگے گی، ان پر معرفتِ خداوندی کے نئے نئے پہلو واضح ہوں گے۔ جس طرح اللہ کی ذات لامحدود ہے، اسی طرح اس کی معرفت بھی لامحدود ہے۔ اس لامحدود معرفت کی توفیق انہی لوگوں کو ملتی ہے جو تفکر اور تدبر کے ذریعے اللہ میں جہاد کرنے والے ہوں۔

اسی فکری جہاد کو اس آیت میں جہاد فی اللہ کہا گیا ہے۔ کتاب "کتابِ معرفت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 26۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.