Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Marifat aur vahdat-e-vujud.

Urdu · 4 min

معرفت اور وحدتِ وجود۔ معرفت اس دنیا کی سب سے بڑی یافت ہے، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ پوری تاریخ میں معرفت کے بارے میں لوگوں کو ایک شدید مغالطہ ہوا ہے۔ انسان کو جب اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے تو یہ اس کے لیے ایک ناقابلِ بیان تجربہ ہوتا ہے؛ انسانی زبان میں اس کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس معرفت کا ایک پہلو یہ ہے کہ کسی انسان کو اس کا تجربہ ہوتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ خدا کے اتنا قریب آ گیا ہے جیسے کہ اس کی ہستی خدا کی ہستی میں شامل ہو گئی ہے۔

تاہم یہ تمام تر ایک نفسیاتی تجربہ ہوتا ہے۔ لوگوں نے شدید غلط فہمی کی بنا پر اس تجربے کو وجودی قربت، یعنی فزیکل نیئرنیس، یا وجودی اتحاد، یعنی فزیکل ایمرجنس کے معنی میں لے لیا۔ اسی سے وحدتِ وجود، یعنی مونزم، کا نظریہ پیدا ہوا۔ نفسیاتی قربت کی حد تک یہ حقیقتِ اعلیٰ کے ادراک کی بات تھی، لیکن وحدتِ وجود کے نظریے کی صورت میں وہ سرتاپا ایک باطل چیز بن گئی۔

اس مشکل کو حل کرنے کے لیے شیخ احمد سرہندی نے وحدتِ شہود کا نظریہ ایجاد کیا۔ اسی طرح ابن عربی نے کہا: "العبد عبدٌ وإن ترقّى، والربُّ ربٌّ وإن تنزّل." مگر میرے نزدیک یہ دونوں باتیں صرف کنفیوژن کا کیس ہیں؛ وہ اصل معاملے کی حقیقی توضیح نہیں۔ حقیقت صرف یہ ہے کہ خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق انسان کی فطرت میں ربانی شعور پیوست کر دیا ہے۔ وہ انسان کے لاشعور میں مسلسل موجود رہتا ہے۔

اسی لاشعور کو شعور میں لانے کا نام معرفت ہے۔ یہ صرف ایک دریافت ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان کسی بھی قسم کی کوئی مماثلت نہیں۔ معرفت کا معاملہ تمام تر دریافت کا معاملہ ہے۔

معرفت ایک خارجی حقیقت کی شعوری دریافت ہے۔ تاہم یہ دریافت، سائنسی دریافت کی طرح، محض ایک ٹیکنیکل دریافت نہیں۔ یہ دریافت آدمی کو حقیقت کے سمندر میں غرق کر دیتی ہے۔ اسی نفسیاتی معاملے کی غلط توجیہ کے نتیجے میں وحدتِ وجود، یعنی مونزم یا ادویت وات کا نظریہ پیدا ہوا۔

کتاب "کتابِ معرفت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 15۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.