کلماتِ رب کی دریافت: معرفت کیا ہے؟ معرفت یہ ہے کہ انسان حالتِ غیب میں اپنے رب کو پہچانے، وہ دیکھے بغیر اس کو دیکھ لے۔ معرفت دراصل یہ ہے کہ آدمی کو خدا کی موجودگی کا حسیاتی تجربہ ہونے لگے۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور معرفت کے حصول کی بھی ایک قیمت ہے۔
وہ قیمت بنیادی طور پر یہ ہے کہ آدمی پردۂ التباس، یعنی element of doubt کو پھاڑ کر حقیقتِ اعلیٰ کو دیکھ سکے۔ پردۂ التباس کو پھاڑنے میں وہی شخص کامیاب ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو ہر قسم کے distraction سے بچائے، جو اپنے آپ کو کامل یکسوئی کے ساتھ معرفت کے حصول میں لگا دے۔ distraction میں ہر وہ چیز شامل ہے جو آدمی کی توجہ کو مقصدِ اعلیٰ سے ہٹانے والی ہو۔ اس میں ہر قسم کے منفی جذبات بھی شامل ہیں، مثلاً نفرت، تعصب، فخر، احساسِ برتری، اور خواہش کی پیروی وغیرہ۔
انسان کو جو دماغ دیا گیا ہے، وہ بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے۔ وہ کوئی عبث چیز نہیں ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ آدمی اپنے دماغ کو unfold کرے اور اس کو حقائقِ ربانی کی دریافت کے لیے استعمال کرے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کلماتِ رب، سورہ نمبر 31 آیت 27، اتنے زیادہ ہیں جن کی کوئی حد نہیں۔
اسی کے ساتھ انسانی دماغ کے جو امکانات، یعنی potential ہیں، وہ بھی لامحدود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک فرد کے دماغ میں جتنے particle ہوتے ہیں، وہ پوری کائنات میں موجود particle کے برابر ہیں۔ انسان کو یہ غیر معمولی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ اس کو استعمال کر کے معرفتِ اعلیٰ کو حاصل کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت میں اہلِ جنت کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ، یعنی شغلِ فاتح، یہ ہوگا کہ وہ لامحدود کلماتِ رب کو ابدی طور پر دریافت کرتے رہیں۔
موجودہ دنیا دراصل اس لیے ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جنت کے اس لامحدود عمل کے لیے تیار، یعنی prepare کرے۔ جنت کی سب سے بڑی خوشی، حصولِ معرفت کی خوشی ہے۔ حصولِ معرفت کا یہ سفر جنت میں ابدی طور پر جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ، جنت میں جو مادی نعمتیں ملیں گی، وہ دراصل ضیافتِ ربانی کے طور پر ملیں گی۔
سورہ نمبر 41 آیت 32۔ کتاب کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 14۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.