Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Imaan ek Marifat.

Urdu · 9 min

ایمان ایک معرفت ہے۔ قرآن کی سورہ الحجرات میں کچھ اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ سورہ نمبر 49، آیت 14۔ یعنی اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا، اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ دوسری طرف، قرآن کی سورہ المائدہ میں کچھ اور اہلِ ایمان کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے: "اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے، تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا۔

وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے، جبکہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کر لے؟ پس اللہ ان کو اس قول کے بدلے میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔

پس اللہ ان کو اس قول کے بدلے میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔ سورہ نمبر 5، آیات 83 تا 85۔ ان دونوں آیتوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے ان دونوں آیتوں کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی حقیقت کیا ہے۔

وہ کون خوش نصیب لوگ ہیں جن کے ایمان کو اللہ تعالی کے یہاں قبولیت حاصل ہوگی، اور وہ ابدی جنتوں میں داخل کیے جائیں گے، جہاں وہ کبھی نہ ختم ہونے والی خوشیوں اور راحتوں میں زندگی گزاریں گے۔ پہلی بات یہ کہ اللہ تعالی کا مطلوب پہلی بات یہ کہ اللہ تعالی کا مطلوب ایمان وہ ہے جو داخل القلب ایمان سورہ نمبر 49 آیت 14 ہو۔ صرف زبان سے ایمان کے کلمات ادا کر دینا وہ چیز نہیں جس کی بنا پر کوئی شخص اللہ تعالی کے یہاں مومن یا صاحب ایمان شمار کیا جائے۔ زبان سے جو کلمہ ایمان ادا کیا جاتا ہے، وہ درحقیقت آدمی کی طرف سے قبولیت ایمان کا ایک لفظی اظہار ہے۔

خدا کے نزدیک اصل مطلوب ایمان یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت دل کی گہرائیوں میں داخل ہو جائے۔ وہ آدمی کے شعور کا سب سے زیادہ اہم حصہ بن جائے۔ اس کے ذریعے آدمی کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر ہونے لگے۔ دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان معرفت حق کا دوسرا نام ہے۔

آدمی جب ایمان کو اور اپنے خالق کو صحیح طور پر پہچانے، اور شعور کی گہرائیوں کے ساتھ وہ یہ جان لے کہ وہ صرف ایک عاجز بندہ ہے، ہر قسم کی بڑائیاں اور تمام قسم کے کمالات صرف اللہ تعالی کو حاصل ہیں، پھر یہ عمل اس کو اس حد تک متاثر کرے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دے، تو اسی گہرے ایمانی تجربے کا نام معرفت یعنی ریالائزیشن ہے۔ اور یہ معرفت ایمان کا آغاز ہے۔ ایمان جب تک حق کی گہری معرفت نہ بنے، اللہ کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس عارفانہ ایمان کی ایک علامت یہ ہے کہ ایک آدمی کو اس کا تجربہ ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو کا سیلاب بہہ پڑتا ہے۔

یہ تجربہ اس کی اندرونی شخصیت میں ایک زلزلہ پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے اندر ایک زبردست قسم کی روحانی ہلچل برپا ہو جاتی ہے۔ یہی گہرے آنسو گویا اس کے اندر برپا ہونے والے اس داخلی انقلاب کی تصدیق ہوتے ہیں جس معرفت حق کے ساتھ آنسوؤں کی یہ تصدیق شامل نہ ہو۔ وہ معرفت حق اللہ تعالی کے یہاں معتبر نہیں۔

یہ ایمان کوئی سادہ بات نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک کائناتی شہادت ہے۔ یہ حقائق خداوندی کو دیکھنے سے پہلے گویا اس کا مشاہدہ کر لینا ہے۔ یہ مجبورانہ اعتراف کا وقت آنے سے پہلے اس کا اختیارانہ اعتراف کرنا ہے۔

یہ اس خداوند ذوالجلال کے حق میں اپنی گواہی درج کرنا ہے جس کی گواہی ہر لمحہ خدا کے مقدس فرشتے کائناتی سطح پر انجام دے رہے ہیں۔ ایمان دراصل دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا فیصلہ ہے۔ یہ دنیا کی نعمتوں کے مقابلے میں آخرت کی نعمتوں کا طالب بننا ہے۔ جو لوگ اپنے سارے دل اور اپنے سارے دماغ کے ساتھ اس طلب کا ثبوت دیں، وہی وہ روحیں ہیں جن کو جنت کے ابدی باغوں میں داخل کیا جائے گا، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

وہ کبھی اس سے باہر آنے کی تمنا نہ کریں گے۔ سورہ نمبر 17 آیت 108۔ کتاب کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 12۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.