Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Marifat-Maqsad-e-insaniyat.

Urdu · 8 min

معرفت مقصدِ انسانیت۔ علماء نے معرفت کو واجبِ اول بتایا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ معرفت مقصدِ انسانیت ہے؛ موت سے پہلے کی زندگی آغازِ معرفت کی زندگی ہے، اور موت کے بعد کی زندگی تکمیلِ معرفت کی زندگی۔ موجودہ دنیا میں ایک انسان ابتدائی دریافت کے درجے میں خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے، آخرت کی دنیا میں وہ کامل دریافت کے درجے میں خدا کی معرفت حاصل کرے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ معرفتِ خداوندی ایک فکری عمل، یعنی intellectual process ہے۔ یہ فکری عمل موجودہ دنیا میں شروع ہوتا ہے اور پھر وہ ابدی طور پر آخرت کی دنیا میں جاری رہے گا۔ قرآن کی سورہ الزاریات میں بتایا گیا ہے کہ جن اور انس کو صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ سورہ نمبر 51، آیت 56۔

اس آیت میں عبادت سے مراد معرفتِ الٰہی ہے۔ آیت کی یہ تفسیر عبداللہ ابن عباس اور علی ابن ابی طالب کے قول پر مبنی ہے۔ یہی معرفتِ الٰہی جن و انس کا مقصدِ تخلیق ہے۔ اس مقصد کا تقاضا تھا کہ جن و انس کو وہ صلاحیت کمال درجے میں عطا کی جائے جس کے ذریعے وہ اعلیٰ درجے میں معرفتِ خداوندی کو حاصل کر سکیں۔

چنانچہ جن و انس کو ایک طرف وہ اعلیٰ دماغی صلاحیت دی گئی جو اس عظیم مقصد کے لیے مطلوب تھی، اور اسی کے ساتھ خارجی اعتبار سے ان کو وہ وسائل دیے گئے جو اس مقصد کی تکمیل میں مددگار بن سکیں۔ معرفت کے لفظی معنی ہی ادراک، یعنی realization، یعنی کسی چیز کو کامل درجے میں پہچاننا۔ معرفت کو دوسرے لفظوں میں شعوری دریافت، یعنی intellectual discovery، کہہ سکتے ہیں۔ یہ دریافت کسی وقتی واقفیت کا نام نہیں ہے؛ یہ ایک لمبے سفر کا نام ہے۔

انسان کو جس خدا کی معرفت حاصل کرنا ہے، اس کی صفت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ اگر تمام درخت قلم بنا دیے جائیں اور تمام موجود سمندروں اور مزید سات سمندروں کو روشنائی، یعنی ink، بنا دیا جائے، اور پھر خدا کے کلمات کو لکھنا شروع کیا جائے، تو تمام سمندر ختم ہو جائیں گے لیکن خدا کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ سورہ نمبر 31، آیت 27۔ جس خدا کے کمالات اتنے زیادہ ہوں، اس کی دریافت ایک وقتی واقفیت نہیں ہو سکتی۔ یہ بلاشبہ دریافت کا ایک لامتناہی سفر ہے، جس کا آغاز تو متعین ہو سکتا ہے لیکن اس کا اختتام متعین نہیں۔

خدا کی معرفت کا یہ مطلب نہیں کہ مراقبہ، یعنی meditation، کر کے تصور کی دنیا میں ذاتِ الٰہی کی جھلکیاں دیکھنے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح وجد، یعنی ecstasy، بھی معرفت کے ہم معنی نہیں۔ معرفت ایک اعلیٰ شعوری حالت ہے جو تخلیقاتِ الٰہیہ میں غور و فکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ قرآن کے مطابق معرفت کی تعریف، یعنی definition، یہ ہے کہ ایک بندہ رب العالمین کو ان عظمتوں کے ساتھ دریافت کرے کہ وہی اس کے لیے اس کی ساری محبتوں کا مرکز بن جائے۔

سورہ نمبر 2، آیت 165۔ اور اس کی خشیت کے جذبات تمام تر اسی کے ساتھ وابستہ ہو جائیں۔ سورہ نمبر 9، آیت 18۔ محبت اور خشیت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

ایک بندہ جب تدبر اور تفکر کے ذریعے خالقِ کائنات کو اس کی صفاتِ کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے، تو اس کے دل میں بے پناہ حد تک اپنے رب کا اعتراف پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ جب وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ دینے والا خدا ہے، اس کے سوا کوئی اور دینے والا نہیں، تو اس کے دل کی گہرائیوں میں یہ اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر میں خدا کی رحمتوں سے محروم ہو جاؤں تو زمین و آسمان میں میرا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم، سورہ نمبر 95، آیت 5 کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کو وہ تمام دماغی صلاحیت عطا کر دی جس کے ذریعے وہ رب العالمین کی معرفت حاصل کر سکے۔

دوسری طرف خارجی دنیا، یعنی nature، کے اندر معرفت کے تمام اجزاء مخفی صورت میں رکھ دیے۔ اب انسان کا یہ کام ہے کہ وہ معرفت کے ان چھپے ہوئے اجزاء کو دریافت کرے اور اعلیٰ معرفت کا تجربہ کر کے اپنے اندر ربانی شخصیت، یعنی divine personality، کی تعمیر کرے۔ کتاب "کتابِ معرفت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 10۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.