Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Aala darja-e-marifat.

Urdu · 9 min

اعلیٰ درجۂ معرفت: قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ خدا کی عبادت کرے۔ سورہ نمبر 51، آیت 56۔ اس آیت میں خدا کی عبادت سے مراد خدا کی معرفت ہے، معرفتِ خداوندی کی دریافت۔ بلاشبہ، کسی انسان کی ذہنی ترقی کی اعلیٰ ترین منزل ہے۔

وہی انسان اعلیٰ انسان ہے جو معرفت کے اس درجے کو حاصل کرے۔ اس معرفت کی تین قسمیں ہیں: پہلی اور دوسری قسم کی معرفت کا تجربہ تاریخ میں واقعہ بن چکا ہے۔ جہاں تک تیسری قسم کی معرفت کا تعلق ہے، اس کے واقعہ بننے کا امکان پہلی بار صرف 21ویں صدی عیسوی میں قابلِ حصول بن سکا ہے۔ پہلی قسم کی دریافت کا تجربہ پیغمبروں کو حاصل ہوا۔

یہ تجربہ رویت کی سطح پر ہوا، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَكَذَٰلِكَ نُورِ إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ سورہ نمبر 6، آیت 75۔ اسی طرح پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آیا ہے: وَلَقَدْ رَأَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورہ نمبر 53، آیت 13۔ یہ معرفت کی وہ قسم ہے جو رویت کی سطح پر حاصل ہوتی ہے۔ یہ معرفت صرف پیغمبروں کے لیے مخصوص ہے۔

دوسری معرفت وہ ہے جو اپنے عجز کی دریافت کی سطح پر ہوتی ہے۔ انسان خدا کے قادرِ مطلق ہونے کے مقابلے میں اپنے عاجزِ مطلق ہونے کی حیثیت کو دریافت کرتا ہے۔ اس طرح وہ خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ اس بات کو خلیفہ چہارم حضرت علی نے ان الفاظ میں بیان کیا: عَرَفْتُ رَبِّي بِفَسْقِ الْعَزَائِمِ یعنی میں نے اپنے رب کو عزائم کے ٹوٹنے سے دریافت کیا۔

معرفت کی تیسری قسم وہ ہے جو اختیار کی سطح پر ہوتی ہے، یعنی آدمی کامل اختیار رکھتے ہوئے خدا کی عظمت کو دریافت کرتا ہے اور اختیارانہ طور پر خدا کے آگے سرنڈر کر دیتا ہے۔ یہ بلاشبہ مشکل ترین کام ہے۔ تمام فلاسفہ اور متکلمین اس بحث میں پڑے رہے کہ خدا جب قادرِ مطلق ہے تو انسان کی حیثیت صرف عاجزِ مطلق کی بنتی ہے۔ انسان کے بااختیار ہونے کا نظریہ صرف خیالی ہے۔

تیسری قسم کی معرفت کے لیے انسان کے پاس پہلے ایسا کوئی پوائنٹ آف ریفرنس موجود نہ تھا جس کے ذریعے وہ معرفت کی اس قسم کو سمجھ سکے۔ اس لیے وہ اس کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔ اور جو چیز قابلِ تصور نہ ہو، وہ قابلِ دریافت بھی نہیں بن سکتی۔ موجودہ زمانے میں ڈارک میٹرز کی دریافت نے پہلی بار اس معاملے میں انسان کو ایک پوائنٹ آف ریفرنس دیا۔

یہ دریافت بتاتی ہے کہ خلا کا تقریباً 95% حصہ نہایت روشن ستاروں سے بھرا ہوا ہے، لیکن وہ ہمیں نظر نہیں آتا کیونکہ ان کی قوتِ کشش اتنی زیادہ ہے کہ وہ اپنی روشنی کو اپنے اندر روکے ہوئے ہیں اور اس کو باہر جانے نہیں دیتے۔ یہ دریافت ایک خدائی مظاہرہ، یعنی ڈیوائن ڈیمونسٹریشن ہے۔ یہ دریافت ایک واقعے کی صورت میں بتا رہی ہے کہ قادرِ مطلق خدا کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی قدرتِ کاملہ کو کسی مخلوق کی نسبت سے روک لے۔ چنانچہ خدا نے انسانی اختیار کو حقیقی بنانے کے لیے انسان کی نسبت سے اپنی قدرت کو روک لیا ہے۔

خدا کی قدرتِ کاملہ کے باوجود انسان کو روزِ قیامت تک حقیقی معنوں میں آزادانہ اختیار حاصل ہے۔ یہ دریافت ایک ریفرنس پوائنٹ ہے جو تیسری قسم کی معرفت کے حصول کو ممکن بناتی ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان اپنے عجز کو دریافت کرے۔ اس کے بعد وہ مذکورہ پوائنٹ آف ریفرنس کے ذریعے یہ دریافت کرے کہ عجزِ کامل کے باوجود وہ اس دنیا میں محدود مدت کے لیے کامل اختیار کا مالک ہے۔

اس دریافت کے بعد وہ شعوری طور پر ایسا کرے کہ کامل آزادی کے باوجود خدا کے مقابلے میں وہ کامل طور پر سرنڈر کر دے۔ یہ بلاشبہ مشکل ترین کام ہے۔ اس میں کسی انسان کو دو انتہائی متضاد چیزوں کے درمیان جینا پڑتا ہے: ایک طرف کامل عجز اور دوسری طرف کامل اختیار۔ جو انسان اپنے شعور کو اتنا زیادہ ترقی یافتہ بنا سکے کہ وہ ان دو متضاد چیزوں کے درمیان جی سکے، وہی وہ انسان ہے جو تیسری قسم کی معرفت حاصل کرے گا۔

یہ تیسری قسم کی معرفت ایک حقیقی انسان کے لیے ناممکن نہیں، کیونکہ انسان کے اندر فطری طور پر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ متضاد افکار کا مجموعہ، یعنی مکسچر آف اپوزٹس، بن سکے۔ اسی حقیقت کو ایک مفکر، اسی حقیقت کو ایک مغربی مفکر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: "I am large enough to contain all these contradictions" کتاب "کتابِ معرفت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 16۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.