Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Islami tareeqa

Urdu · 5 min

اسلامی طریقہ اس کے بعد وہ طریقہ ہے جو اسلامی شریعت میں اس مسئلے کے حل کے لیے بتایا گیا ہے، یعنی مخصوص شرائط کے ساتھ۔ کچھ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت۔ تعدد ازواج کا یہ اصول جو اسلامی شریعت میں مقرر کیا گیا ہے، وہ دراصل عورتوں کو مذکورہ بالا قسم کے بھیانک انجام سے بچانے کے لیے ہے۔ بظاہر اگرچہ یہ ایک عام حکم ہے، لیکن اگر اس حقیقت کو سامنے رکھیں کہ عملی طور پر کوئی عورت کسی مرد کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر ہنگامی حالات ہی میں راضی ہو سکتی ہے، نہ کہ معمول کے حالات میں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ حکم دراصل ایک سماجی مسئلے کے حل کے طور پر وضع کیا گیا ہے۔

وہ فاضل عورتوں کو جنسی آوارگی سے بچا کر معقول اور مستحکم خاندانی زندگی گزارنے کا ایک انتظام ہے۔ بالفاظِ دیگر، یہ ایک زوجگی کے مقابلے میں تعدد ازواج کو اختیار کرنے کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ تعدد ازواج اور جنسی بربادی کے درمیان انتخاب کا مسئلہ پیدا کرنے کی صورت میں تعدد ازواج کو اختیار کرنا ہے۔ تعدد ازواج کے حکم کو اگر مجرد طور پر دیکھا جائے تو وہ ایک ایسا حکم معلوم ہوگا جو مردوں کی موافقت میں بنایا گیا ہو، لیکن اگر اس کو سماج کی عملی صورتحال کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ خود عورتوں کی موافقت میں ہے۔ وہ عورتوں کے مسئلے کا ایک زیادہ معقول اور فطری بندوبست، یعنی ارینجمنٹ، ہے۔

اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اسلام میں تعدد ازواج کی اجازت مردوں کی جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے نہیں ہے، یہ دراصل ایک مسئلے کو حل کرنے کی عملی تدبیر ہے۔ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کرنا اسی وقت ممکن ہوگا جبکہ آبادی میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ تعداد میں پائی جا رہی ہوں۔ اگر عورتوں کی تعداد نسبتاً زیادہ نہ ہو تو اس حکم پر عمل کرنا سرے سے ممکن نہ ہوگا۔

پھر کیا اسلام مردوں کی خواہش کی تکمیل کے لیے ایک ایسا اصول بتا سکتا ہے جو سرے سے قابلِ حصول اور قابلِ عمل ہی نہ ہو؟ انسائیکلوپیڈیا برٹانی کا 1984 نے بجا طور پر لکھا ہے کہ تعدد ازواج کے اصول کو اختیار کرنے کی ایک وجہ جنسی تناسب میں عورتوں کی زیادتی، یعنی سرپلس آف وومن، ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو قومیں تعدد ازواج کی اجازت دیتی ہیں یا اس کو پسند کرتی ہیں، ان میں بھی مردوں کی بہت بڑی اکثریت فاضل عورتوں کی محدود تعداد کی وجہ سے ایک ہی بیوی پر اکتفا کرتی ہے۔ Among most people who permit or prefer it, the majority of men live in monogamy because of the limited number of women.

انسائیکلوپیڈیا برٹانی کا، والیوم 8، پیج 97۔ اسلام میں ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت بطور آئیڈیل نہیں ہے، یہ درحقیقت ایک عملی ضرورت، یعنی پریکٹیکل ریزن کی وجہ سے ہے۔ اور وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آبادی میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس زیادہ تعداد کے باعزت حل کے لیے تعدد ازواج کا اصول مقرر کیا گیا ہے۔

یہ ایک عملی حل ہے، نہ کہ نظریاتی آئیڈیل۔ کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 353۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.