خلاصۂ کلام: اوپر جو بحث کی گئی، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابتدائی پیدائش کے اعتبار سے مرد اور عورت اگرچہ یکساں تعداد میں پیدا ہوتے ہیں، مگر بعد کو پیش آنے والے مختلف اسباب کی بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاشرے میں مردوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور عورتوں کی تعداد زیادہ۔ سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہو؟ جنسی نابرابری کی ناگزیر صورتحال میں، دونوں جنسوں کے درمیان صحت مند تعلق کس طرح قائم کیا جائے؟ یک زوجگی یعنی ایک مرد ایک عورت کے اصولِ نکاح پر عمل کرنے کی صورت میں، لاکھوں کی تعداد میں ایسی عورتیں باقی رہتیں جن کے لیے معاشرے میں ایسے مرد موجود نہ ہوں جن سے وہ نکاح کا تعلق قائم کر کے باعزت زندگی گزار سکیں۔
ایک زوجگی کا مطلق حصول کسی کو بظاہر خوشنما نظر آ سکتا ہے، مگر واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں وہ پوری طرح قابلِ عمل نہیں۔ گویا ہمارے لیے انتخاب یعنی choice ایک زوجہ اور متعدد زوجہ کے درمیان نہیں ہے، بلکہ خود متعدد زوجہ کی ایک قسم اور دوسری قسم کے درمیان ہے۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ یہ فاضل عورتیں جنسی آوارگی یا معاشرتی بربادی کے لیے چھوڑ دی جائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے ایسے مردوں کے ساتھ ازدواجی رشتے میں وابستہ ہو جائیں جو ایک سے زیادہ بیویوں کے ساتھ عدل کر سکتے ہوں۔
مذکورہ بالا دو ممکن صورتوں میں سے اسلام نے دوسری صورت کا انتخاب کیا ہے، اور غیر اسلام نے پہلی صورت کا۔ اب ہر شخص خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ دونوں میں سے کون سا طریقہ زیادہ باعزت اور زیادہ معقول ہے۔ کتاب خاتونِ اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 355۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.