غیر قانونی تعدد ازواج، جن قوموں میں تعدد ازواج کو ناپسند کیا جاتا ہے، ان کو اس کی یہ قیمت دینی پڑی کہ ان کے یہاں اس سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ایک چیز رائج ہو گئی، جس کو "مسٹریس" کہا جاتا ہے۔ ان قوموں کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس فطری عمل کو روک سکیں، جس کے نتیجے میں اکثر معاشرے میں عورتوں کی تعداد زیادہ اور مردوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ ایک طرف آبادی کے تناسب میں یہ فرق، اور دوسری طرف تعدد ازواج پر پابندی۔ اس دو طرفہ مسئلے نے ان کے یہاں "مسٹریس" کی برائی، یعنی بالفاظ دیگر، غیر قانونی تعدد ازواج کو پیدا کر دیا۔
"مسٹریس" کی تعریف ویبسٹرز ڈکشنری میں یہ کی گئی ہے کہ وہ عورت جو کسی مرد سے جنسی تعلق رکھے، اس کے بغیر کہ اس سے اس کا نکاح ہوا ہو۔ A woman who has sexual intercourse with and often is supported by a man for a more or less extended period of time without being married to him. Paramore Websters New 20th Century Dictionary Second Edition: Mistress. "مسٹریس" کا یہ طریقہ آج، بشمول ہندوستان، تمام ان ملکوں میں رائج ہے جہاں تعدد ازواج پر قانونی پابندی ہے یا سماجی طور پر اس کو برا سمجھا جاتا ہے۔
ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ تعدد ازواج کو اختیار کیا جائے یا نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبادی میں عورتوں کی غیر متناسب تعداد کو کھپانے کے لیے قانونی تعدد ازواج کا طریقہ اختیار کیا جائے یا غیر قانونی تعدد ازواج کا۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 352۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.