Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Masal-e-ka hall na ke hukm

Urdu · 4 min

مسئلے کا حل، نہ کہ حکم۔ مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عورت اور مرد کی تعداد میں نابرابری ہماری دنیا کا ایک مستقل مسئلہ ہے۔ وہ جنگ کی حالت میں بھی پایا جاتا ہے اور جنگ نہ ہونے کی حالت میں بھی۔ اب سوال یہ ہے کہ جب دونوں صنفوں کی تعداد میں نابرابری ہے تو اس نابرابری کے مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے؟

ایک زوجگی کے اصول پر عمل کرنے کے نتیجے میں جن بیوہ یا غیر بیوہ عورتوں کو شوہر نہ ملے، وہ اپنی فطرت کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کیا کریں؟ وہ سماج میں کس طرح اپنے لیے ایک باعزت زندگی حاصل کریں؟ ایک طریقہ وہ ہے جو ہندوستان کی روایات میں بتایا گیا ہے، یعنی ایسی بیوہ عورتیں اپنے آپ کو جلا کر اپنے وجود کو ختم کر لیں تاکہ نہ ان کا وجود رہے اور نہ ان کے مسائل۔ یا پھر ایسی عورتیں گھر سے محروم ہو کر سڑکوں کی بے کس زندگی گزارنے پر راضی ہو جائیں۔

اس اصول پر عمل کرنے کی بنا پر ہندو سماج کا کیا حال ہوا ہے، اس کی تفصیل جاننا ہو تو انڈیا ٹوڈے 15 نومبر 1987 کی 8 صفحات کی با تصویر رپورٹ ملاحظہ فرمائیں، جو اس بامعنیٰ عنوان کے تحت شائع ہوئی ہے: "بیوائیں: انسانیت کا برباد شدہ ملبہ" (Widows: Wreck of Humanity)۔ اس حل کے بارے میں یہاں کسی مزید گفتگو کی ضرورت نہیں، کیونکہ مجھے یہ امید نہیں کہ موجودہ زمانے میں کوئی باہوش آدمی اس طریقے کی وکالت کر سکتا ہے، یا کسی بھی درجے میں وہ اس کو مذکورہ مسئلے کا حل سمجھ سکتا ہے۔ دوسری صورت وہ ہے جو مغربی ملکوں کی مہذب سوسائٹی میں رائج ہے، یعنی کسی ایک مرد کی دوسری منکوحہ بیوی بننے پر راضی نہ ہونا۔ البتہ بہت سے مردوں کی غیر منکوحہ بیوی بن جانا۔

دوسری عالمی جنگ میں یورپ کے کئی ملک لڑائی میں شریک تھے، مثلاً جرمنی، فرانس، انگلینڈ وغیرہ۔ ان میں مرد بڑی تعداد میں مارے گئے، چنانچہ جنگ کے بعد مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان ملکوں میں جنسی بے راہ روی عام ہو گئی، یہاں تک کہ بہت سی بے شوہر عورتوں کے گھروں کے سامنے اس قسم کے بورڈ لکھے ہوئے نظر آنے لگے: "رات گزارنے کے لیے ایک مہمان چاہیے" (Wanted an evening guest)۔ یہ صورتحال مغرب میں جنگ کے بعد بھی مختلف صورتوں میں بدستور باقی ہے۔

اب اس کو باقی رکھنے کا سبب زیادہ تر صنعتی اور مشینی حادثات ہیں، جس کی تفصیل اوپر درج کی گئی کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 351۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.