← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Aurat ki razamandi
Urdu · 6 min
عورت کی رضامندی۔ ایک سے زیادہ نکاح کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ آبادی کے اندر عورتیں زیادہ تعداد میں موجود ہوں؛ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ جس عورت سے نکاح کرنا مطلوب ہے، وہ خود بھی اپنی آزادانہ مرضی سے اس قسم کے نکاح کے لیے پوری طرح راضی ہو۔ اسلام میں عورت کی رضامندی مسلمہ طور پر نکاح کے لیے شرط ہے۔ کسی عورت سے زبردستی نکاح کرنا جائز نہیں۔
اسلام کی نمائندہ تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ہے جبکہ کسی مرد کو یہ اجازت دی گئی ہو کہ وہ کسی عورت کو جبراً اپنے نکاح میں لے آئے۔ حدیث میں آیا ہے کہ کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے۔ لا تنكح البكر حتى تستأذن. صحیح البخاری، حدیث نمبر 6567۔
صحیح مسلم، حدیث نمبر 1419۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ اس کے باپ نے اس کی مرضی کے خلاف اس کا نکاح کر دیا ہے۔ آپ نے اس کو اختیار دیا کہ چاہے تو نکاح کو باقی رکھے اور چاہے تو اس کو توڑ دے۔ عن ابن عباس النجارية: بكرا أتت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت أن أباها زوجها وهي كارهة فخيرها النبي صلى الله عليه وسلم.
سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2096۔ عن ابن عباس أن زوج بريرة كان عبداً يقال له مغيث كأني أنظر إليه يطوف خلفها يبكي ودموعه تسيل على لحيته فقال النبي صلى الله عليه وسلم لعباس: يا عباس ألا تعجب من حب مغيث بريرة ومن بغض بريرة مغيثا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لو راجعته قالت: يا رسول الله تأمرني؟ قال: إنما أنا أشفع. قالت: لا حاجة لي فيه.
صحیح البخاری، حدیث نمبر 5283۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ بریرہ کا شوہر ایک سیاہ فام غلام تھا۔ اس کا نام مغیث تھا۔ گویا کہ میں مغیث کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ مدینے کے راستوں میں بریرہ کے پیچھے چل رہا ہے۔
وہ رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کی داڑھی تک بہہ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس سے کہا کہ اے عباس! کیا تم کو بریرہ کے ساتھ مغیث کی محبت اور مغیث کے ساتھ بریرہ کی نفرت پر تعجب نہیں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے کہا کہ کاش تم اس کی طرف رجوع کر لو۔
بریرہ نے کہا کہ کیا آپ مجھ کو اس کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ صرف سفارش کر رہا ہوں۔ بریرہ نے کہا: مجھے اس کی حاجت نہیں۔ تعدد ازواج کا ایک واقعہ ہے جو حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں پیش آیا۔
ایک بیوہ خاتون، ام ابان ابن عتبہ، کو چار مسلمانوں کی طرف سے نکاح کا پیغام ملا جو سب کے سب شادی شدہ تھے۔ ان چار حضرات کے نام یہ ہیں: عمر بن الخطاب، علی ابن ابی طالب، زبیر اور طلحہ۔ ام ابان نے طلحہ کا پیغام قبول کر لیا اور بقیہ تینوں کے لیے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ام ابان کا نکاح طلحہ سے کر دیا گیا۔
یہ واقعہ مدینہ یعنی اسلامی دارالسلطنت میں ہوا۔ جن لوگوں کے پیغام کو رد کیا گیا، ان میں وقت کے امیرالمومنین کا نام بھی شامل تھا، مگر اس پر کسی نے تعجب یا بیزاری کا اظہار نہیں کیا، اور نہ اس بنا پر وہاں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام میں عورت کو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ یہ عورت کا ایک ایسا حق ہے جس کو کوئی بھی اس سے چھین نہیں سکتا، حتیٰ کہ وقت کا حکمران بھی نہیں۔
ان احکام اور واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں چار کی حد تک نکاح کرنے کی اجازت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی مرد چار عورتوں کو پکڑ کر اپنے گھر میں بند کر لے۔ یہ دو طرفہ رضامندی کا معاملہ ہے۔ وہی عورت کسی شادی شدہ مرد کے نکاح میں لائی جا سکتی ہے جو خود اس کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر بلا اقرار راضی ہو۔ اور جب یہ معاملہ تمام تر عورت کی رضامندی سے انجام پاتا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟
موجودہ زمانے میں آزادی انتخاب یعنی فریڈم آف چوائس کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اسلامی قانون میں یہ قدر پوری طرح موجود ہے۔ البتہ مساوات نسواں کے علمبردار آزادی انتخاب کے ہم معنی بنا دینا چاہتے ہیں۔ کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 348۔