Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Ta'daad ki na barabari

Urdu · 11 min

تعداد کی نابرابری: اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بااعتبارِ پیدائش عورت اور مرد کی تعداد تقریباً یکساں ہوتی ہے، یعنی جتنے بچے تقریباً اتنی ہی بچیاں۔ مگر شرحِ اموات، یعنی mortality، کے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ عورتوں کے مقابلے میں مردوں کے درمیان موت کی شرح زیادہ ہے۔ یہ فرق بچپن سے لے کر آخر عمر تک جاری رہتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کے مطابق عمومی طور پر موت کا خطرہ عمر کے ہر مرحلے میں عورتوں کے لیے کم پایا گیا ہے، اور مردوں کے لیے زیادہ۔

In general, the risk of death at any given age is less for females than for males. والیوم 7، پیج 37۔ اکثر حالات میں سماج کے اندر عورتوں کی تعداد کا زیادہ ہونا اور مردوں کی تعداد کا کم ہونا مختلف اسباب سے ہوتا ہے۔ مثلاً جب جنگ ہوتی ہے تو اس میں زیادہ تر صرف مرد مارے جاتے ہیں۔

پہلی عالمی جنگ 1914-18 میں 8 ملین سے زیادہ فوجی مارے گئے۔ شہری لوگ جو اس جنگ میں ہلاک ہوئے، وہ اس کے علاوہ ہیں، یہ زیادہ تر مرد تھے۔ دوسری عالمی جنگ 1939-45 میں ساڑھے 6 کروڑ آدمی ہلاک ہوئے یا جسمانی طور پر ناکارہ ہو گئے۔ یہ سارے لوگ زیادہ تر مرد تھے۔

عراق-ایران جنگ 1979-88 عیسوی میں ایران کی 86,000 عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ عراق میں ایسی عورتوں کی تعداد تقریباً 100,000 ہے جن کے شوہر اس دس سالہ جنگ میں ہلاک ہوئے۔ اسی طرح مثال کے طور پر جیل اور قید کی وجہ سے بھی سماج میں مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے۔ امریکہ کو موجودہ زمانے میں دنیا کی مہذب ترین سوسائٹی کی حیثیت حاصل ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکہ میں ہر روز تقریباً 13,00,000 آدمی کسی نہ کسی جرم میں پکڑے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک تعداد وہ ہے جو لمبی مدت تک کے لیے جیل میں ڈال دی جاتی ہے۔ ان سزا یافتہ قیدیوں میں دوبارہ 97% مرد ہی ہوتے ہیں۔ اسی طرح جدید صنعتی نظام نے حادثات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔

موجودہ زمانے میں حادثاتی موتیں روزمرہ کا معمول بن گئی ہیں۔ سڑک کے حادثے، ہوائی حادثے، کارخانوں کے حادثے، اور دوسرے مشینی حادثے ہر ملک میں اور ہر روز ہوتے رہتے ہیں۔ جدید صنعتی دور میں یہ حادثات اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ اب سیفٹی انجینئرنگ کے نام سے ایک مستقل فن وجود میں آ گیا ہے۔ 1967 کے اعداد و شمار کے مطابق اسے ایک سال میں 50 ملکوں کے اندر مجموعی طور پر 175,000 حادثاتی موتیں واقع ہوئیں۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا والیوم 16، صفحہ 137۔ یہ سب زیادہ تر مرد تھے۔ صنعتی حادثات کی موتوں میں سیفٹی انجینئرنگ کے باوجود پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر ہوائی حادثات جتنے 1988 میں ہوئے، اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔

اسی طرح تمام صنعتی ملکوں میں مستقل طور پر اسلحہ سازی کے تجربات ہو رہے ہیں، ان میں برابر لوگ ہلاک ہوتے رہتے ہیں۔ ان ہلاک شدگان کی تعداد کبھی نہیں بتائی جاتی، تاہم یہ یقینی ہے کہ ان میں تمام تر صرف مرد ہی ہیں جو ناگہانی موت کا شکار ہوتے ہیں۔ اس طرح کے مختلف اسباب کی بنا پر عملی صورتحال اکثر یہی ہوتی ہے کہ سماج میں عورتوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہو اور مردوں کی تعداد نسبتاً کم ہو جائے۔ امریکہ کی سوسائٹی نہایت ترقی یافتہ سوسائٹی سمجھی جاتی ہے، مگر وہاں بھی یہ فرق پوری طرح پایا جاتا ہے۔

1987 کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کی آبادی میں مردوں کے مقابلے میں تقریباً 71,00,000 یعنی 7. 8 ملین عورتیں زیادہ تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکہ کا ہر مرد شادی شدہ ہو جائے تو اس کے بعد بھی امریکہ میں تقریباً 71,00,000 عورتیں ایسی باقی رہیں گی جن کے لیے ملک میں غیر شادی شدہ مرد موجود نہ ہوں گے جن سے وہ نکاح کر سکیں۔ دنیا کی آبادی میں مرد اور عورت کی تعداد کے فرق کو بتانے کے لیے یہاں کچھ مغربی ملکوں کے اعداد و شمار دیے جا رہے ہیں۔

یہ اعداد و شمار انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 سے لیے گئے ہیں۔ کنٹری نمبر 1: آسٹریا، میل 47. 07%، فیمیل 52. 93%۔

نمبر 2: برما، 48. 81 میل، فیمیل 51. 19۔ نمبر 3: جرمنی، 48.

02 میل، 51. 89 فیمیل۔ نمبر 4: فرانس، میل 48. 99، فیمیل 41.

01۔ نمبر 5: اٹالی، 48. 89 میل، 51. 11 فیمیل۔

نمبر 6: پولینڈ، میل 48. 61، فیمیل 41. 39۔ نمبر 7: اسپین، 48.

94 میل، 51. 06 فیمیل۔ نمبر 8: سوئٹزرلینڈ، 48. 68 میل، 51.

33 فیمیل۔ نمبر 9: سوویت یونین، میل 46. 59، فیمیل 53. 03۔

نمبر 10: یونائیٹڈ اسٹیٹس، 48. 58 میل، 51. 42 فیمیل۔ کتاب: خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 345۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.