Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Ta'adud e azwaj

Urdu · 6 min

تعدد ازواج قرآن میں اجتماعی زندگی کے بارے میں جو احکام دیے گئے ہیں، ان میں سے ایک حکم وہ ہے جو تعدد ازواج یعنی چار عورتوں تک نکاح کرنے کے بارے میں ہے۔ اس سلسلے میں آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُخْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَى وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً سورہ نمبر 4 آیت 3 یعنی: "اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیم بچوں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے، تو بیوہ عورتوں میں جو تم کو پسند ہوں، ان سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کر لو۔ اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے، تو ایک ہی نکاح کرو۔ " یہ آیت غزوہ احد یعنی شوال 3 ہجری کے بعد اتری۔

اس کا شانِ نزول یہ ہے کہ اس جنگ میں 70 مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ سے مدینے کی بستی میں اچانک 70 گھر مردوں سے خالی ہو گئے۔ نتیجتاً یہ صورتحال پیش آئی کہ وہاں بہت سے بچے یتیم اور بہت سی عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ اب سوال پیدا ہوا کہ اس معاشرتی مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے۔

اس وقت قرآن میں مذکورہ آیت اتری اور کہا گیا کہ جو لوگ استطاعت رکھتے ہوں، وہ بیوہ عورتوں سے نکاح کر کے یتیم بچوں کو اپنی سرپرستی میں لے لیں۔ اپنے الفاظ اور اپنے شانِ نزول کے اعتبار سے بظاہر یہ ایک وقتی حکم نظر آتا ہے۔ یعنی اس کا تعلق اس صورتحال سے ہے، یعنی اس کا تعلق اس صورتحال سے ہے جبکہ جنگ کے نتیجے میں آبادی کے اندر عورتوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تھی اور مردوں کی تعداد کم۔ مگر قرآن اپنے نزول کے اعتبار سے زمانی ہونے کے باوجود اپنے اطلاق کے اعتبار سے ایک ابدی کتاب ہے۔

قرآن کے اعجاز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ زمانی زبان میں ابدی حقیقت بیان کرتا ہے۔ اس کا یہ حکم بھی اس کی صفت خاص کا مظہر ہے۔ زیادہ شادی کا معاملہ صرف مرد کی مرضی پر منحصر نہیں، اس کی لازمی شرط انسکیپبل کنڈیشن یہ ہے کہ معاشرے میں زیادہ عورتیں بھی موجود ہوں۔ اگر زمین پر 1000 ملین انسان بستے ہوں اور ان میں 500 ملین مرد ہوں اور 500 ملین عورتیں، تو ایسی حالت میں مردوں کے لیے ممکن ہی نہ ہوگا کہ وہ ایک سے زیادہ نکاح کریں۔

ایسی حالت میں ایک سے زیادہ نکاح صرف جبراً کیا جا سکتا ہے، اور جبری نکاح اسلام میں جائز نہیں۔ اسلامی شریعت میں نکاح کے لیے عورت کی رضامندی ہر حال میں ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس طرح عملی طور پر دیکھیے تو قرآن کے مذکورہ حکم کی تعمیل صرف اس وقت ممکن ہے جبکہ سماج میں وہ مخصوص صورتحال پائی جائے جو احد کی جنگ کے بعد مدینے میں پائی جا رہی تھی۔ یعنی مردوں اور عورتوں کی تعداد میں نابرابری۔

اگر یہ صورتحال نہ پائی جا رہی ہو تو قرآن کا حکم عملاً ناقابل نفاذ ہوگا۔ مگر انسانی سماج اور انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قدیم مدینے کی صورتحال محض وقتی صورتحال نہ تھی، یہ ایک ایسی صورتحال تھی جو اکثر حالات میں زمین پر موجود رہتی ہے۔ مذکورہ ہنگامی حالت ہی ہماری دنیا کی عمومی حالت ہے۔ یہ قرآن کے مصنف کے عالم الغیب ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے اپنی کتاب میں ایک ایسا حکم دیا جو بظاہر ایک ہنگامی حکم تھا، مگر وہ ہماری دنیا کے لیے ایک ابدی حکم بن گیا۔

کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 344۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.