Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Zahni masaayel

Urdu · 7 min

ذہنی مسائل۔ گھریلو مسائل میں سے ایک مسئلہ وہ ہے جو سوتیلی اولاد کی نسبت سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک عورت کسی شخص کی دوسری بیوی بن کر ایک گھر میں داخل ہو، اور وہاں پچھلی بیوی سے ہونے والی اولاد موجود ہو، تو عام طور پر گھر کے اندر نازک مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، جو بعض اوقات گھر کی بربادی کا سبب بنتے ہیں۔ ہر عورت کو فطری طور پر اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے۔

جب تک دوسری بیوی کے یہاں اولاد نہ ہو، اس وقت تک اس کی یہ کمزوری چھپی رہتی ہے۔ مگر جیسے ہی دوسری بیوی کے یہاں اولاد پیدا ہوئی، اس کی دلچسپیاں اور توجہات اپنی اولاد کی طرف مائل ہو جاتی ہیں۔ بس یہیں سے بگاڑ کا آغاز ہو جاتا ہے۔ پچھلی بیوی کی اولاد اپنے آپ کو گھر کے اندر بے جگہ محسوس کرنے لگتی ہے۔

اب کشمکش شروع ہو جاتی ہے، جو بعض اوقات ایسے نتائج تک پہنچ جاتی ہے جو دونوں میں سے کسی کے حق میں بھی مفید نہیں ہوتی۔ اس صورتحال کا حل نہایت آسان ہے، اور وہ ایک لفظ میں: وضع داری ہے۔ جب بھی گھر کے اندر ایسی صورتحال پیش آئے، تو عورت کو چاہیے کہ وہ اپنے دلی جذبات پر وضع داری کا پردہ ڈال لے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ کوئی نزاکت پیدا نہ ہوگی۔

دوسری بیوی کو جاننا چاہیے کہ اگر وہ عام معاملات میں اپنی سگی اولاد کا بظاہر کم لحاظ کرے، تو اس سے اس کی اولاد کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ کیونکہ اولاد کے لیے سب سے بڑی چیز ماں ہوتی ہے، اور وہ زندہ حالت میں پوری طرح اسے حاصل ہے۔ مگر پہلی بیوی کی اولاد اپنی ماں کی وفات کی وجہ سے احساسِ محرومی میں مبتلا رہتی ہے۔ اس لیے ظاہری معاملات میں اگر اس کا کچھ کم لحاظ کیا جائے، تو اس کو فوراً اس کا احساس ہوگا۔

اس کی یہ نفسیاتی حالت اس کو ذلت کے احساس میں مبتلا کر دے گی۔ اور اجتماعی زندگی میں کسی شخص کا احساسِ ذلت میں مبتلا ہونا ہمیشہ فساد پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ یہاں میں ایک عملی مثال دیتا ہوں۔ مولانا سید سلیمان ندوی 1884 تا 1953 کی اہلیہ سلیمہ خاتون، 1905 تا 1987 مولانا مرحوم کی دوسری بیوی تھیں۔

1923 میں جب وہ شادی کے بعد مولانا مرحوم کے یہاں آئیں، تو پچھلی بیوی سے ان کے یہاں ایک صاحبزادے تھے جن کا نام ابو سہیل تھا۔ سلیمہ خاتون جب کسی کو خط لکھتیں تو قدیم روایت کے مطابق اپنا نام نہ لکھتیں، بلکہ والدہ ابو سہیل لکھتیں۔ یہاں تک کہ خود ان کے یہاں اولاد ہوئی، وہ چار لڑکیوں اور ایک لڑکے کی ماں بن گئیں۔ مگر ان کی سابقہ وضع میں فرق نہیں آیا۔

وہ اپنی تحریروں میں بدستور والدہ ابو سہیل لکھتی رہیں۔ ان کے صاحبزادے ڈاکٹر سلمان ندوی بذاتِ خود ایک مشہور شخصیت ہیں، مگر سلیمہ خاتون صاحبہ نے کبھی اپنے آپ کو والدہ سلمان نہیں لکھا، بلکہ ہمیشہ والدہ ابو سہیل لکھا۔ مرحومہ ایک دین دار خاتون تھیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی کی وفات کے بعد وہ دنیا میں 34 سال تک رہیں، مگر ان کی اس وضع داری میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا۔

ماہ نامہ معارف، اعظم گڑھ، اگست 1987، شذرات۔ سلیمہ خاتون مرحومہ کا وضع داری کا یہی رویہ گھر کی عام زندگی میں تھا۔ ہر ماں کی طرح انہیں بھی قلبی طور پر اپنی سگی اولاد سے زیادہ محبت ہوگی۔ مگر عام رویے میں انہوں نے کبھی اپنی اس قلبی حالت کو ظاہر ہونے نہیں دیا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ابو سہیل صاحب اپنے سوتیلے بہن بھائی کے ساتھ بالکل سگے بھائی کی طرح رہے، اور گھر کے اندر کبھی کوئی نزاکت پیدا نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام مسائل، جن کو گھریلو مسائل کہا جاتا ہے، وہ 99 فیصد محض نفسیاتی ہوتے ہیں۔ وہ ایک نفسیات کے تحت پیدا ہوتے ہیں، اور دوسری نفسیات کے تحت انہیں ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا حقیقی کے بجائے نفسیاتی ہونا نہایت آسانی کے ساتھ اس طرح معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ایک ساس کو جب اپنی بہو سے کوئی شکایت پیدا ہو، تو وہ سوچے کہ یہی کام اگر اس کی بیٹی کرتی، کیا تب بھی اس کو اس پر شکایت ہوتی؟

اسی طرح جب ایک بہو کو اپنی ساس سے کسی معاملے میں شکایت ہو، تو وہ سوچے کہ یہی معاملہ اگر ماں کی طرف سے پیش آیا ہوتا، کیا تب بھی وہ اس پر رنجیدہ ہو کر بیٹھ جاتی؟ ساس اور بہو اگر اس اعتبار سے غور کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ ان کی شکایت سراسر بے بنیاد ہے۔ ان کی شکایت سراسر بے بنیاد تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے تمام مسائل ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، اور ذہن ہی میں انہیں ختم کیا جا سکتا ہے۔

ذہن سے باہر نہ ان کا کہیں وجود ہے، اور نہ ذہن سے باہر کہیں ان کو حل کرنے کی ضرورت۔ کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 341۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.