غیر مشترک نظام: موجودہ زمانے کی لڑکیوں نے مشترک خاندانی نظام کو اپنے لیے مصیبت سمجھ کر اس کا بدل یہ تلاش کیا ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ الگ رہیں۔ خاص طور پر تعلیم یافتہ لڑکیاں شادی کے بعد پہلی کوشش یہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے شوہر کو اس پر راضی کریں کہ وہ اپنے ماں باپ سے جدا ہو جائے اور بیوی کو لے کر علیحدہ زندگی گزارے۔ یہ خیال بظاہر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے، مگر ابتدائی کچھ دنوں کے بعد وہ عورت کے لیے ایک ایسا بوجھ ثابت ہوتا ہے جو مشترک زندگی سے بھی زیادہ مسائل اپنے ساتھ لیے ہوئے ہو۔ میں نے بہت سی لڑکیوں کو دیکھا ہے جنہوں نے ابتدائی جوش کے تحت اپنے شوہر کو اس کے والدین سے جدا کیا اور اس کو فتح کر کے علیحدہ رہنے لگیں، مگر آخر کار ان کے لیے زندگی ایک ایسا بوجھ ثابت ہوئی جس میں ان کا پورا وجود پس کر رہ گیا۔
مشترک زندگی میں ایک عورت صرف نفسیات کی قربانی دیتی ہے، مگر غیر مشترک زندگی میں اس کو اپنے پورے وجود کی قربانی دینی پڑتی ہے، اور پہلی قربانی کے مقابلے میں دوسری قربانی بلاشبہ زیادہ سخت ہے۔ آرنلڈ ٹوائن بی نے اس کا اعتراف کیا ہے؛ اس نے جدید مغربی معاشرے کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ درمیانی درجے کی خاتون نے تعلیم حاصل کی اور اپنے آپ کو روزگار کے قابل بنایا، مگر عین اسی وقت اس نے جدید صنعتی نظام کے نتیجے میں اپنے گھریلو ملازموں کو کھو دیا۔ رشتہ داروں کی بلا تنخواہ مدد جو مشترک خاندانی نظام میں اس کو مل رہی تھی، اس سے بھی وہ غیر مشترک زندگی کی وجہ سے محروم ہو گئی۔ اس کے لیے صرف دو امکان باقی رہا: یا تو وہ بالکل گھریلو خادمہ بن کر رہ جائے، یا بیک وقت دو کام کا ناقابل برداشت بوجھ اٹھائے۔
Middle-class women acquired education and a chance at career at the very time she lost her domestic servants and the unpaid household help of relatives living in the old, large family. She had to become either a household drudge or carry the intolerably heavy load of two simultaneous full-time jobs. Time: March 20, 1972. مشترک خاندانی زندگی میں بعض ناخوشگوار پہلوؤں کو دیکھ کر لڑکیاں گھبرا اٹھتی ہیں اور غیر مشترک خاندانی زندگی کی طرف دوڑ پڑتی ہیں، مگر اکثر اوقات یہ محض ایک جذباتی فیصلہ ہوتا ہے۔
غیر مشترک زندگی میں گھر کو سنبھالنے کے لیے لڑکیاں جتنی محنت اور قربانی پیش کرتی ہیں، اس کی نصف محنت اور قربانی اگر وہ مشترک زندگی میں پیش کریں تو وہ کہیں زیادہ سکھ اور چین کے ساتھ رہ سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی مشکلوں سے خالی نہیں ہوتی، البتہ ہم اپنی دانشمندی سے اپنی مشکلوں کو گھٹا سکتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ مل کر رہنے میں بلاشبہ بعض مشکلات ہیں، مگر وہ الگ رہنے کے مقابلے میں یقینی طور پر کم ہیں۔ اور ہر عقلمند مرد اور عورت کو چاہیے کہ وہ زیادہ مشکل کے مقابلے میں کم مشکل کو ترجیح دے۔
کتاب: خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 340۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.