← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Yaqeeni hall
Urdu · 9 min
یقینی حل؟ حقیقت یہ ہے کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کا معاملہ سب سے زیادہ شعور سے متعلق ہے۔ شعور کسی خاتون کی شادی شدہ زندگی کو کامیاب بناتا ہے، اور بے شعوری اس کی شادی شدہ زندگی کو تلخ اور ناکام بنا کر رکھ دیتی ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ چیز جس کو "سسرال کا جھگڑا" کہا جاتا ہے، وہ ایک مصنوعی مسئلہ ہے۔
یہ مسئلہ حقیقت سے زیادہ فرضی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا موجودہ معاشرہ ایک بے خبر معاشرہ ہے۔ معاشرہ مختلف صورتوں میں اس بے خبری کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ اسی میں سے ایک قیمت وہ ہے جس کو "سسرال کا جھگڑا" کہا جاتا ہے۔
بعض تاریخی اسباب کی بنا پر ہمارے معاشرے کے افراد زیادہ تر خوش خیالیوں میں جی رہے ہیں۔ انہیں زندگی کی حقیقتوں کی خبر نہیں۔ اس بے شعوری کی قیمت ہمارے افراد زندگی کے ہر شعبے میں ادا کر رہے ہیں، اور اسی کا ایک جز وہ ہے جو سسرالی شکایتوں اور خاندانی جھگڑوں کی صورت میں ان کے حصے میں آیا ہے۔ میکہ اور سسرال کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ میکہ وہ گھر ہے جہاں ایک لڑکی اپنے ماں باپ کی محبت کی وجہ سے مقام حاصل کرتی ہے، اور سسرال وہ گھر ہے جہاں لڑکی خود اپنے عمل کی بنیاد پر اپنا مقام بناتی ہے۔
انہی دو فقروں کے ذریعے میکہ اور سسرال کے پورے معاملے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ لڑکی اپنے ماں باپ کا گوشت اور خون ہوتی ہے۔ وہ اس سے ہر حال میں محبت کرتے ہیں، خواہ وہ اچھی ہو یا بری، خواہ وہ کام والی ہو یا بے کام والی۔ اس کے والدین کو اس سے آرام ملے تب بھی وہ اس سے قدر و محبت کا معاملہ کرتے ہیں، اور تکلیف ملے تب بھی۔
مگر سسرال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ایک لڑکی کا سسرال میں جانا اپنے غیر خونی رشتہ داروں میں جانا ہے۔ خونی رشتہ داروں میں اگر وہ محبت برائے محبت کے ماحول میں رہ رہی تھی تو غیر خونی رشتہ داروں کے درمیان اس کو محبت برائے کردار کے ماحول میں رہنا پڑتا ہے۔ پہلی جگہ اس کو ایک طرفہ بنیاد پر محبت ملتی ہے، اور دوسری جگہ دو طرفہ بنیاد پر۔
جب ایک لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو وہ اسی نازک امتحان میں داخل ہوتی ہے۔ شادی ایک لڑکی کے لیے ایسا ہی ہے جیسے ایک مچھلی جو پانی میں رہنے کی عادی ہو، اس کو اچانک خشکی کا عادی بننے کے لیے پانی سے باہر ڈال دیا جائے۔ اگر لڑکی کو خوش قسمتی سے ایسے والدین ملے ہوں جو مذکورہ راز کو جانتے ہوں اور انہوں نے اپنی لڑکی کو پیشگی طور پر اس سے آگاہ کر دیا ہو، تو لڑکی کا ذہن نئی صورتحال سے نپٹنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اسی طرح اگر لڑکی باشعور ہے تو وہ خود اس راز کو سمجھ لیتی ہے اور اپنے آپ کو نئے ماحول کے مطابق ڈھال لیتی ہے۔
کسی لڑکی کو اگر خوش قسمتی سے ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز حاصل ہو جائے تو اس کے لیے شادی کے بعد کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے شادی کے دور میں داخل ہونا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی شخص نیا موسم آنے کے بعد اپنے لباس کے معمولات کو بدل دے۔ ایسی لڑکی اپنے کردار کی بدولت دوبارہ اپنے سسرال میں وہی باعزت مقام حاصل کر لیتی ہے جو باعزت مقام اس سے پہلے وہ اپنے والدین کے گھر میں والدین کی محبت کی بدولت حاصل کیے ہوئے تھی۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ نہ والدین زندگی کی اس حقیقت کو جانتے ہوں اور نہ لڑکی خود اتنی باشعور ہو کہ وہ اس کو جان کر اپنے آپ کو اس کے مطابق بنائے، تو اس کے بعد وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو سسرال کا جھگڑا کہا جاتا ہے۔
لڑکی سسرال کو اپنا گھر نہیں سمجھتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سسرال والے بھی اس کو اپنا فرد نہیں بنا پاتے۔ اس کی قیمت لڑکی کو یہ بھگتنی پڑتی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر سسرال میں کڑھتی رہے۔ وہ غیر واقعی طور پر اپنے آپ کو نفسیاتی عذاب میں مبتلا کیے ہوئے ہو۔
سسرال کا جھگڑا خود اپنی بے شعوری کی قیمت ہے جس کو نادان لڑکیاں سسرال کی طرف منسوب کر دیتی ہیں۔ بعض نادان لڑکیاں اس سے آگے تک جاتی ہیں۔ وہ اپنے میکہ جا کر وہاں اپنے والدین سے سسرال کی شکایتیں بیان کرتی ہیں۔ یہ شکایتیں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے سراسر فرضی ہوتی ہیں۔
مگر کسی کا قول یہاں صادق آتا ہے کہ ہر باپ اپنی اولاد کے حق میں بے وقوف ہوتا ہے۔ چنانچہ نادان والدین ان جھوٹی شکایتوں کو سچ سمجھ کر سسرال کے خلاف کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ چھیڑ دیتے ہیں۔ مزید لطف یہ کہ اس جھوٹی جنگ کا بدترین انجام ہمیشہ ان لوگوں کے حصے میں آتا ہے جنہوں نے یہ جنگ چھیڑی تھی۔ یعنی لڑکی اور اس کے والدین۔
اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ لڑکی مقابلتاً عضو ضعیف ہے۔ اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جب قوی اور ضعیف میں ٹکراؤ ہو تو اس کا نقصان ہمیشہ ضعیف کو اٹھانا پڑے گا۔ سسرال کے بارے میں لڑکیوں کی شکایت جھوٹی شکایت کیوں ہوتی ہے؟ یہ جھوٹی شکایت اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ دو طرفہ سبب سے پیدا ہوتی ہے۔
مگر لڑکیاں ہمیشہ اس کو ایک طرفہ بنا کر پیش کرتی ہیں۔ ایک ایسا مسئلہ جو دو طرفہ سبب سے پیدا ہوا ہو، اس کو ایک طرفہ مسئلے کی حیثیت سے پیش کرنا ہی اس مسئلے کو جھوٹا بنا دیتا ہے۔ گاہک نے اگر قیمت ادا نہ کی ہو تو اس کو یہ کہنے کا کیا حق ہے کہ دکاندار نے سودا نہیں دیا؟ لڑکی اگر غیر جانبدارانہ انداز سے سوچ سکے تو وہ نہایت آسانی سے جان لے گی کہ سارے معاملے کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ لڑکی نے سسرال والوں کو وہ چیز نہیں دی جو سسرال والے اس سے چاہتے تھے۔
اس لیے سسرال والوں سے بھی اس کو وہ چیز نہیں ملی جو وہ ان سے پانا چاہتی تھی اور یقیناً پا سکتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ سسرال زندگی کی معلم ہے۔ ایک لڑکی کا سسرال میں جانا گویا ایک ایسی درس گاہ میں جانا ہے جہاں وہ زندگی کی حقیقتیں سیکھے۔ جہاں وہ ان رازوں کو جانے، جہاں وہ ان رازوں کو جانے جو وہ میکہ کے مصنوعی ماحول میں نہیں جان سکی تھی۔
میکہ ایک لڑکی کے لیے مصنوعی دنیا ہے۔ اور سسرال اس کے لیے حقیقی دنیا۔ جو لڑکی اس راز کو نہ جانے وہ ہمیشہ اپنی زندگی میں ناکام رہے گی۔ اور جو لڑکی اس راز کو جان لے وہ ہمیشہ اپنی زندگی میں کامیاب ہوگی۔
کوئی بھی چیز اس کی کامیابی کو روکنے والی نہیں۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 336۔