Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Do misalein

Urdu · 7 min

دو مثالیں: مجھے دو عورتوں کا قصہ معلوم ہے، ایک خاتون اپنے والدین کی منظورِ نظر تھیں۔ وہ اپنے میکے میں کوئی کام نہیں کرتی تھیں، سارا دن بیکاری میں گزارتی تھیں۔ شادی ہو کر جب وہ اپنے سسرال میں پہنچیں تو وہاں بھی انہوں نے اسی طرح کام سے غیر متعلق ہو کر رہنا چاہا، جس طرح وہ اپنے والدین کے گھر میں کام سے غیر متعلق ہو کر رہتی تھیں۔ مگر نئے ماحول میں یہ ناممکن تھا۔

چنانچہ سسرال والوں سے ان کے اختلافات شروع ہو گئے۔ ان کی بے فکر زندگی پریشانیوں کی زندگی میں تبدیل ہو گئی۔ انہوں نے کبھی اپنے آپ پر غور نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ سسرال والوں ہی کو الزام دیتی رہیں، یہاں تک کہ لڑ جھگڑ کر ایک روز وہ اپنے والدین کے پاس چلی آئیں۔

یہاں انہوں نے اپنے والدین کے سامنے صرف آدھی کہانی بیان کی، یعنی انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ میں کس طرح وہاں رہی۔ وہ صرف یہ بتاتی رہیں کہ دوسروں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ صرف اس لیے تھا کہ انہوں نے سسرال کے کام کاج سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔ سسرال کو انہوں نے اپنا گھر نہیں سمجھا۔

شادی کے بعد سسرال ان کا گھر بن چکا تھا، مگر وہ بدستور میکے کو اپنا گھر کہتی اور سمجھتی رہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے والدین کو یہ بات نہیں بتائی۔ وہ صرف اس سلوک کو بتاتی رہیں جو کہ ان کے سسرال والوں نے جوابی طور پر، نہ کہ ایک طرفہ طور پر، ان کے ساتھ کیا تھا۔ ان کے والدین نے وہی نادانی کی جو ایسے مواقع پر عام طور پر لڑکیوں کے والدین کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنی لڑکی کی بات کو جوں کا توں مان لیا، اور سسرال والوں کو ایک طرفہ طور پر ظالم قرار دے کر ان کے خلاف لڑائی چھیڑ دی۔ یہ سلسلہ لامتناہی طور پر جاری رہا، یہاں تک کہ لڑکی ذہنی کوفت میں مبتلا ہو کر ٹی بی کی مریض ہو گئی۔ وہ برسہا برس تک اسی حال میں پڑی رہی، اور آخر کار طویل دکھ بھری زندگی گزار کر دنیا سے چلی گئی۔ دوسرا قصہ ایک دانشمند خاتون کا ہے۔

نکاح کے بعد جب وہ رخصت ہو کر اپنے سسرال میں پہنچی تو وہاں کی عورتوں نے اس کو بے قدر کر دیا۔ اپنی شکل و صورت کے اعتبار سے وہ زیادہ جاذب نہ تھی۔ ابتداً اس کے پسِ پشت اس پر تبصرے ہوتے تھے۔ جلد ہی بعد خود اس کے سامنے اس کی بدصورتی پر تبصرے کیے جانے لگے۔

وہ اپنی سسرال کی ایک بے عزت فرد بن کر رہ گئی۔ خاتون کے لیے یہ بات بے حد سخت تھی، مگر اس نے طے کیا کہ اس معاملے میں وہ اپنے والدین سے ایک لفظ بھی نہیں کہے گی۔ اس نے خاموشی کے ساتھ ایک فیصلہ کیا، یہ کہ وہ لوگوں کی باتوں سے بالکل بے پرواہ ہو کر لوگوں کی خدمت کرے گی۔ اس نے گھر کا پورا کام رضاکارانہ طور پر سنبھال لیا۔

وہ گھر کے ہر فرد کی ضرورت کا خیال کرنے لگی۔ اس نے اپنی پوری توجہ اس میں لگا دی کہ گھر کے ہر فرد کو اس سے آرام پہنچے۔ کسی کو بھی اس سے کسی تکلیف کا تجربہ نہ ہو۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما منصوبہ تھا۔

اس کے پورا ہونے میں مہینوں نہیں بلکہ سالوں بیت گئے۔ آخر کار دھیرے دھیرے حالات بدلنا شروع ہوئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ گھر کی سب سے زیادہ باعزت فرد بن گئی۔ ہر شخص اس کو محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔

جس گھر میں اس سے پہلے وہ گھر کی خادمہ بنا دی گئی تھی، اسی گھر میں اس نے دوبارہ گھر کی مالکہ کی حیثیت حاصل کر لی۔ کامیاب ازدواجی زندگی کا راز صرف ایک لفظ میں چھپا ہوا ہے، اور وہ وفاداری ہے۔ میکے میں ایک لڑکی کی وفاداری، ماں باپ اور بھائی بہن کے درمیان، پیدائشی طور پر مسلم ہوتی ہے۔ وہاں پیشگی طور پر ہر ایک کو اس کی وفاداری کا یقین ہوتا ہے۔

خون کا تعلق اس کو اپنے میکے والوں کے لیے ایسا وفادار بنا دیتا ہے جو کسی حال میں بھی ختم ہونے والا نہیں۔ مگر سسرال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں اس کی وفاداری پہلے سے موجود نہیں ہوتی۔ وہ قائم کرنے سے قائم ہوتی ہے۔

اس کا واحد حل یہ ہے کہ عورت اپنا گھر تبدیل کرنے کے ساتھ اپنی وفاداری بھی تبدیل کر دے۔ وہ پیدائشی وفاداری کو شعوری وفاداری بنائے۔ اب اس کے یہاں اپنا گھر کے معنی اس کی سسرال ہو۔ اب اس کی توجہات کا مرکز اس کے شوہر کا خاندان بن جائے۔

وہ اپنے میکے کی طرف دیکھنا چھوڑ دے۔ وہ ہر معاملے میں اپنے سسرال کی طرف دیکھے۔ وہ دل سے سسرال والوں کی خیر خواہ بن جائے۔ یہی بطور واقعہ بھی درست ہے، اور یہی عورت کے لیے اپنی شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے کا راز بھی۔

کتاب: خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 334۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.