Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Izafa-e-mutarjim

Urdu · 9 min

اضافۂ مترجم: قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے نبی، ایمان والے مردوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ طریقہ ان کے لیے پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ باخبر ہے اس سے جو وہ کرتے ہیں۔ اور ایمان والی عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔

اور وہ اپنی زینت کو نہ کھولیں مگر وہ جو ظاہر ہو جائے۔ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا سورہ نمبر 24، آیت 31۔ اس آیت کے سلسلے میں یہ سوال ہے کہ "إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا" سے کس چیز کا استثنا مراد ہے؟ یعنی وہ کیا چیز ہے جس کو عورت کھلا رکھ سکتی ہے؟

اس سلسلے میں فقہاء اور مفسرین کی دو رائے ہیں۔ یہ دو رائے اس واقعے پر مبنی ہیں کہ زینت دو قسم کی ہوتی ہے: زینتِ خِلْقِیَّة اور زینتِ مُقْتَصِبَة۔ چنانچہ ایک گروہ نے اس سے دونوں قسم کی زینتیں مراد لی ہیں، اور دوسرے گروہ نے اس سے صرف زینتِ مُقْتَصِبَة مراد لیا ہے۔ ابنِ مسعود، حسن، ابنِ سیرین، ابو الجوزہ، ابراہیم نخعی وغیرہ نے اس سے صرف زینتِ مُقْتَصِبَة مراد لیا ہے، یعنی وہ آرائش و زیبائش جو عورت خود اپنے جسم پر ڈالتی ہے، مثلاً کپڑا وغیرہ۔

ان حضرات کے نزدیک عورت کو باہر نکلنے کی صورت میں اپنی اس قسم کی زیبائش کو خود سے کھلا نہیں رکھنا چاہیے، البتہ اگر اس کا کوئی جز آپ سے ظاہر ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً جسم کے اوپر کی چادر کا ہوا سے اڑنا، اور اس کی وجہ سے وقتی طور پر کسی زیبائش کا کھل جانا۔ دوسری رائے وہ ہے جو عبداللہ ابنِ عباس، عبداللہ ابنِ عمر، عطاء، اکریمہ، سعید ابنِ جبیر، ابو الشعثہ، ضحاک، ابراہیم نخعی وغیرہ سے منقول ہے۔ یہ حضرات "إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا" سورہ نمبر 24، آیت 31 سے "وجہ" اور "کفَّينَ" یعنی چہرہ اور دونوں ہاتھ کا استثنا مراد لیتے ہیں۔

یہ دوسری تفسیر اس روایت پر مبنی ہے جس کو ابو داؤد نے اپنی سنن، حدیث نمبر 4104 میں نقل کیا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اسماء بنتِ ابی بکر آئیں، اور ان کے جسم پر باریک کپڑا تھا۔ آپ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ آپ نے فرمایا: "اے اسماء!

عورت جب حیض کو پہنچ جائے تو اس کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے سوا اپنے جسم کا کوئی اور حصہ کھولے۔ " اور آپ نے اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ تفسیر ابنِ کثیر، جلد 3، صفحہ 283۔ اس بنا پر اس معاملے میں فقہاء کے دو گروہ ہو گئے۔

احناف اور مالکیہ کا کہنا ہے کہ چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں چھپانے والی چیزوں میں شامل نہیں۔ إِنَّ الْوَجْهَ وَالْكَفَّيْنِ لَيْسَتَا بِعُرَةٍ فَقَدِ اسْتَثْنَتِ الْأَيَةَ سورہ نمبر 24، آیت 31۔ مَا ظَهَرَ مِنْهَا أَيْ مَا دَعَتِ الْحَاجَةُ إِلَى كَشْفِهِ وَإِظْهَارِهِ وَهُوَ الْوَجْهُ وَالْكَفَّانُ شافعیہ اور حنابلہ کا کہنا ہے کہ "وجہ" اور "کفَّينَ" عورت ہیں، یعنی چھپانے کی چیزیں ہیں۔ ان کے نزدیک زینتِ خِلْقِی اور زینتِ قَصَبِی دونوں مطلق طور پر چھپانے کی چیزیں ہیں۔

ان کا کھولنا عورت کے لیے حرام ہے۔ اور "إِلَّا مَا ظَهَرَ" سے جو چیز مستثنیٰ کی گئی ہے، وہ صرف وہ چیز ہے جو قصد و ارادے کے بغیر اپنے آپ کھل جائے۔ اس پر ان سے مواخذہ نہیں۔ چنانچہ چہرہ اور ہتھیلی عورت کی وہ زینت ہیں جن کا کھولنا ضرورت کے بغیر حرام ہے۔

أَنَّ الْمُرَادَ مَا ظَهَرَ بِدُونِ قَصْدٍ وَلَا عَمَدٍ مِثْلَ أَنْ يَكْشِفَ الرِّيحُ أَنَّ نَهْرِهَا أَوْ سَاقِهَا أَوْ شَيْءٍ مِنْ جَسَدِهَا وَيُصْبِحَ مَعْنَى الْآيَةِ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ أَبَدًا وَهُنَّ مُؤَاخَذَاتٌ عَلَى إِبْدَاءِ زِينَتِهِنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا بِنَفْسِهِ وَانْكَشَفَ بِغَيْرِ قَصْدٍ وَلَا عَمَدٍ فَلَسْنَ مُؤَاخَذَاتٍ عَلَيْهِ فَيَكُونَ الْوَجْهُ وَالْكَفَّانِ مِنَ الزِّينَةِ الَّتِي يَحْرُمُ إِبْدَاءُهَا محمد علی الصابونی، روائع البیان، جلد 2، صفحہ 154 تا 55۔ مولانا شبیر احمد عثمانی سورہ النور کی مذکورہ آیت 31 کے حاشیے میں لکھتے ہیں: "آخر" کے نزدیک یہاں زینت کا ترجمہ "زیبائش" زیادہ جامع اور مناسب ہے۔ زیبائش کا لفظ ہر قسم کی خِلْقِی اور قَصَبِی زینت کو شامل ہے، خواہ وہ جسم کی پیدائشی ساخت سے متعلق ہو یا پوشاک وغیرہ خارجی ٹپ ٹاپ سے۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ عورت کو کسی بھی قسم کی خِلْقِی یا قَصَبِی زیبائش کا اظہار بجز محارم کے کسی کے سامنے جائز نہیں، ہاں جس قدر زیبائش کا ظہور ناگزیر ہے اور اس کے ظہور کو بسبب عدمِ قدرت یا ضرورت کے روک نہیں سکتی، اس کے بمجبوری یا بضرورت کھلا رکھنے میں کوئی مزاحمت نہیں، بشرطیکہ فتنے کا خوف نہ ہو۔

حدیث و آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرہ اور کفَّينَ یعنی ہتھیلیاں "إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا" میں داخل ہیں، کیونکہ بہت سی ضروریات دینی و دنیاوی ان کے کھلا رکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اگر ان کے چھپانے کا مطلقاً حکم دیا جائے تو عورتوں کے لیے کاروبار میں سخت تنگی اور دشواری پیش آئے گی۔ آگے فقہاء نے قدمین کو بھی انہی اعضاء پر قیاس کیا ہے۔ لیکن واضح رہے کہ "إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا" سے صرف عورتوں کو بضرورت ان کے کھلا رکھنے کی اجازت ہوئی، نامحرم مردوں کو اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ان اعضاء کا نظارہ کریں۔

شاید اسی لیے اس اجازت، یعنی آیت 31 سے، پیشتر ہی حق تعالیٰ نے غضِ بصر کا حکم آیت 30 (مومنین) کو سنا دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایک طرف سے کسی عضو کے کھولنے کی اجازت، اس کو مستلزم نہیں کہ دوسری طرف سے اس کو دیکھنا بھی جائز ہو۔ کتاب خاتونِ اسلام، صفحہ نمبر 327.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.