← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Tajribaati tasdeeq
Urdu · 6 min
تجرباتی تصدیق: جدید ترقی یافتہ ملکوں کے معاشرتی مسائل میں جو مسئلہ سرِ فہرست ہے، وہ طلاق کا مسئلہ ہے۔ ان ملکوں میں اکثر شادیاں طلاق پر ختم ہو جاتی ہیں۔ طلاقوں کی اس کثرت نے خاندانی زندگی کے نظام کو بالکل درہم برہم کر دیا ہے۔ بچے اپنے والدین کی موجودگی میں بڑوں کی سرپرستی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
وہ خود رو پودے کی طرح پرورش پاتے ہیں اور بالآخر مجرمین میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ بات عام طور پر تسلیم کی گئی ہے کہ جدید نوجوان طبقے میں انارکی کا رجحان زیادہ تر انہی اجڑے ہوئے گھروں، یعنی "بروکن ہومز" کی پیداوار ہے۔ قدیم زمانے میں طلاق کی کثرت کا یہ مسئلہ نہ تھا، پھر موجودہ زمانے ہی میں یہ مسئلہ اتنے بڑے پیمانے پر کیوں پیدا ہوا ہے؟ اس کا واحد سب سے بڑا سبب وہ چیز ہے جس کو آج کل کی زبان میں "مخلوط سماج" یعنی mixed society اور مذہبی زبان میں "بے پردہ معاشرت" کہا جاتا ہے۔
اس بے خیر طرزِ معاشرت نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ عورت اور مرد کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا حد بندی کے بغیر، سمندر کی مچھلیوں کی طرح ایک دوسرے کے درمیان رہیں۔ اس طرزِ معاشرت میں جنسی وفاداریوں کا بار بار تبدیل ہونا لازمی ہے۔ باپردہ معاشرت میں عمومی طور پر آدمی صرف اپنی بیوی کو دیکھتا ہے، اس لیے وہ انتشارِ وفاداری کے فتنے سے بچا رہتا ہے۔ اس کے برعکس بے پردہ معاشرت میں بار بار دوسرے چہرے اس کے سامنے آتے ہیں۔
اب اس کو نظر آتا ہے کہ نیا چہرہ قدیم چہرے سے زیادہ اچھا ہے۔ یہ تقابلی مشاہدہ اس کو فتنے میں مبتلا کر دیتا ہے، اور وہ پرانے جوڑے سے اکتا کر نئے جوڑے کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ چنانچہ مغربی کہانیوں میں اکثر یہ بتایا جاتا ہے کہ مرد اور عورت شادی کر کے کچھ دن ایک ساتھ رہے، اس کے بعد ان کے سامنے کوئی اور چہرہ آیا اور وہ اس کو پسند آ گیا۔ انہوں نے سابقہ تعلق کو ختم کر کے نیا تعلق قائم کر لیا۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 میں مغربی ملکوں میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پر کلام کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ چنانچہ مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ فلم ایکٹرز، مصنفین، اور دوسرے گروہ کے لوگ جو کہ جنسِ مخالف سے زیادہ روابط رکھتے ہیں، ان میں طلاق کا زیادہ رجحان پایا جاتا ہے۔ Actors, authors, and other groups that have many contacts with the opposite sex tend to have a high divorce frequency. Volume 7, page 163 اس مغربی رپورٹ میں طلاقوں کی کثرت کو روابط، یعنی contacts، کی کثرت کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے۔
یہ بہت اہم ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مخلوط معاشرت یا بے پردہ معاشرت کا بہت گہرا رشتہ ازدواجی زندگی کی عدم استواری سے ہے۔ باپردہ معاشرت کا ماحول ازدواجی زندگی میں استواری پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس بے پردہ معاشرت کا ماحول ازدواجی زندگی میں عدم استواری کا موجب بنتا ہے۔
اور اس طرح طلاق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ بے پردہ معاشرت کا یہ انجام باپردہ معاشرے کے درست ہونے کی ایک تجرباتی تصدیق ہے۔ باپردہ معاشرت طلاق کے خلاف گویا ایک مانع عام، یعنی deterrent factor کی حیثیت رکھتی ہے۔ بالفاظِ دیگر، بے پردہ معاشرت خاندانی نظام کو غیر مستحکم کر کے طرح طرح کی سماجی خرابیاں پیدا کرتی ہے۔
اس کے مقابلے میں باپردہ معاشرت خاندانی نظام کو مستحکم بناتی ہے، جو کہ نسلِ انسانی کے لیے مختلف قسم کے عظیم فوائد کی ضامن ہے۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ 330.