Maulana Wahiduddin Khan
22 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Pard-e-ka hukm

Urdu · 22 min

پردے کا حکم، از علامہ ناصر الدین الالباني۔ اس باب کے تحت ایک مشہور عرب عالم اور محدث، محمد ناصر الدین الالباني، 1914 تا 1999 عیسوی کی عربی کتاب کا خلاصہ درج کیا جا رہا ہے۔ راقم الحروف کا یہ ترجمہ اور خلاصہ، ابتداً سہ ماہی مجلّہ اسلام اور عصر حاضر دہلی کے شمارہ جنوری 1973 میں شائع ہوا تھا۔ حجاب المرأة المسلمة في الكتاب والسنة.

تالیف: محمد ناصر الدین الالباني، شامی، صفحات 122، ناشر: المکتب الاسلامی، بیروت، لبنان۔ ہمارے پیشِ نظر اس عربی کتاب کا تیسرا ایڈیشن 1389 ہجری ہے، جو ابتدائی ایڈیشنوں کے مقابلے میں مزید اضافوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ اس میں مصنف کے بیان کے مطابق قرآن و حدیث کی روشنی میں پردے کے مسئلے کی تحقیق کی گئی ہے۔ مصنف کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ عورت کا چہرہ لازماً پردے میں شامل نہیں ہے، یعنی وجه المرأة ليس بعورت.

اگرچہ انہیں یہ بھی اعتراف ہے کہ اس کا چھپانا زیادہ بہتر ہے، یعنی الستر هو أفضل. وہ ان لوگوں سے متفق نہیں ہیں جو چہرے کو اگرچہ لازمی طور پر ستر میں شامل نہیں سمجھتے، مگر فسادِ زمانے کی بنا پر اسبابِ فتنے کی روک تھام کے لیے، یعنی سدًّا للذرية اس کو چھپانا ضروری قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے جن روایات سے استدلال کیا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے: أن عائشة أخبرته قالت كنّا نساء المؤمنات يشهدن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الفجر متلفعات بمروطهن ثم ينقلبن إلى بيوتهن حين يقضين الصلاة لا يعرفهن أحد من الغلس. صحیح البخاری، حدیث نمبر 553، صفحہ 30۔

یعنی حضرت عائشہ نے فرمایا: مسلم خواتین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز میں شریک ہوتی تھیں، چادر میں لپٹی ہوتیں، پھر نماز کے بعد اپنے گھروں کو واپس ہوتی تھیں، اور اس وقت اتنا اندھیرا ہوتا تھا کہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان عورتوں کا چہرہ کھلا ہوتا تھا، کیونکہ اگر چہرہ کھلا ہوا نہ ہو تو ان کو پہچاننے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں، یہ جملہ اس وقت بامعنی ہے جبکہ ان کا چہرہ، جس سے آدمی حقیقتاً پہچانا جاتا ہے، کھلا ہوا ہو۔ اسی طرح عورتوں کے ہاتھ کے شاملِ ستر نہ ہونے کے سلسلے میں انہوں نے ابن عباس کی مشہور روایت نقل کی ہے، جس میں آیا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے سامنے تقریر فرمائی اور انہیں صدقے کی تلقین کی۔

اس کے بعد حضرت بلال نے اپنا کپڑا پھیلایا تو عورتیں اپنے چھلے اور انگوٹھی نکال نکال کر اس میں ڈالنے لگیں۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 977۔ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد صاحبِ کتاب، ابن حزم، المحلی بالآثار، جلد 2، صفحہ 248 کا قول نقل کرتے ہیں: فهذا ابن عباس بحضرة رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى أيديهن فصح أن اليد من المرأة والوجه ليس بعورت وما عداهما ففرض ستره. صفحہ 31۔

یعنی ابن عباس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں عورتوں کے ہاتھوں کو دیکھا، پس ثابت ہوا کہ عورتوں کا ہاتھ اور چہرہ دونوں چھپانے والی چیزیں نہیں ہیں۔ البتہ ان کے سوا جسم کے جو حصے ہیں، ان کا چھپانا ضروری ہے۔ آج کل کی عورتیں زیب و زینت میں جن بےہودہ طریقوں تک پہنچ گئی ہیں، ان کو دیکھ کر میرا دل پھٹ جاتا ہے۔ مگر اس کا علاج یہ نہیں ہے کہ وہ چیز جس کو اللہ نے مباح رکھا ہو، اس کو ہم حرام ٹھہرائیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ قرآنی آیات، سنت محمدی، اور آثارِ سلف کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت جب گھر سے باہر نکلے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے پورے بدن کو چھپائے اور اپنی زینت کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہونے دے، ما سوا وجہ الکفین یعنی چہرہ اور دونوں ہاتھوں کے۔ ان کی تحقیق کے مطابق شرائطِ حجاب حسبِ ذیل ہیں: نمبر 1: پورے بدن کو چھپانا، الا وہ جو مستثنیٰ کیا گیا ہو۔ نمبر 2: ایسا حجاب نہ اختیار کیا جائے جو بذاتِ خود زینت بن جائے۔ نمبر 3: لباس باریک کپڑے کا نہ ہو جس سے بدن جھلکے۔

نمبر 4: کشادہ لباس ہو، تنگ نہ ہو۔ نمبر 5: خوشبو میں بسا ہوا نہ ہو۔ نمبر 6: مرد کے مشابہ نہ ہو۔ نمبر 7: کافر عورتوں کے مشابہ نہ ہو۔

نمبر 8: شہرت کا لباس نہ ہو۔ حجاب کی پہلی شرط کا ماخذ، مصنف کے نزدیک، سورہ نور کی آیت 31 اور سورہ احزاب کی آیت 59 ہے۔ یہ دونوں آیتیں حسبِ ذیل ہیں: وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن ويحفظن فروجہن ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها وليضربن بخمرهن على جيوبهن ولا يبدين زينتهن إلا لبعولتهن أو آبائهن أو آباءهن أو أبناءهن أو إخوانهن أو بني إخوانهن أو بني أخواتهن أو نسائهن أو ما ملكت أيمانهن أو ما ملكت أيمانهن أو التابعين غير أولي الأربة من الرجال أو الطفل الذين لم يظهروا على عورات النساء ولا يضربن بأرجلهن ليعلم ما يخفين من زينتهن وتوبوا إلى الله جميعاً أيها المؤمنون لعلكم تفلحون. سورہ نمبر 24، آیت 31۔

یعنی: اور کہہ دو مومن عورتوں سے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوا اس کے جو اس میں سے ظاہر ہو جائے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوا اپنے شوہروں کے، یا اپنے باپ پر، یا اپنے شوہر کے باپ پر، یا اپنے بیٹوں پر، یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر، یا اپنے بھائیوں پر، یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں پر، یا اپنی عورتوں پر، یا اپنی لونڈیوں پر، یا ماتحت مردوں پر جن کو کوئی غرض نہ ہو، یا ایسے لڑکوں پر جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے ابھی ناواقف ہیں، اور اپنے پاؤں زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہو جائے۔ اور مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ دوسری آیت یہ ہے: يا أيها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهم ذلك أدنى أن يعرفن فلا يؤذين وكان الله غفورا رحيما.

سورہ نمبر 33، آیت 59۔ یعنی: اے نبی! کہہ دو اپنی بیویوں سے اور اپنی لڑکیوں سے اور مسلمانوں کی بیویوں سے کہ لٹکا لیا کریں اپنے اوپر اپنی چادریں، اس سے جلدی پہچان ہو جایا کرے گی اور ایذا نہ دی جائے گی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ سورہ نور کی آیت کے سلسلے میں احادیث سے استدلال کرتے ہوئے انہوں نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں "الا ما ظہر منها" سے وجہ الکفین یعنی چہرہ اور ہاتھوں کا استثنیٰ مراد ہے۔

سورہ احزاب کی آیت کے سلسلے میں مختلف احادیث کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں: فيستفاد مما ذكرنا أن ستر المرأة لوجهها ببرقع أو نحوه مما هو معروف اليوم عند النساء المحسنات أمر مشروع محمود وإن كان لا يجب ذلك عليها بل من فعل فقد أحسن ومن لا فلا حرج. صفحہ 3۔ یعنی: جو شواہد ہم نے درج کیے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کا برقعہ یا اور کسی چیز سے اپنے چہرے کو چھپانا مشروع اور پسندیدہ ہے، اگرچہ وہ اس پر لازم نہیں۔ اس طریقے پر عمل کرنا احسن ہے، مگر جو عمل نہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں۔

نمبر 2۔ حجاب کی دوسری شرط، مصنف کی تحقیق کے مطابق یہ ہے کہ وہ بذاتِ خود زینت نہ ہو۔ قرآن میں اس کو "تبرج" کہا گیا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوا ہے: وقرنا في بيوتكن ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى وأقمنا الصلاة وآتينا الزكاة وأطعنا الله ورسوله إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا. سورہ نمبر 33، آیت 33۔

یعنی: اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے مطابق مت پھرو، اور تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ کو یہ منظور ہے کہ اے گھر والو! تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو ہر طرح پاک صاف کرے۔ مصنف کے نزدیک اس حکم کا منشا یہ ہے کہ عورت اپنی زینت اور محاسن کو اس طرح ظاہر نہ کرے کہ اس سے دیکھنے والوں میں میلان اور شہوت پیدا ہو۔

وہ لکھتے ہیں: والمقصود من الأمر بالجلباب إنما هو ستر زينة المرأة فلا يعقل حينئذ أن يكون الجلباب نفسه زينة. صفحہ 55۔ یعنی: جلباب لٹکانے کا حکم اس لیے ہے کہ عورت کی زینت کو چھپایا جائے۔ اس لیے ناقابلِ تصور ہے کہ جلباب خود بھی ایک زینت بن جائے۔

مصنف لکھتے ہیں کہ تبرج سے بچنے کی اسلام میں اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اس کو شرک اور زنا اور سرقہ جیسی حرام چیزوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے متعلق حدیثیں جمع کر دی ہیں۔ نمبر 3۔ مصنف کی تقسیم کے مطابق حجاب کی تیسری شرط یہ ہے کہ کپڑا باریک نہ ہو: فإن الستر لا يتحقق به وأما الشفاف فإنه يزيد المرأة فتنة وزينة.

صفحہ 56۔ یعنی: کیونکہ اس کی موجودگی میں پردہ پردہ نہیں ہو سکتا، اور باریک کپڑا جس سے بدن جھلکے، عورت کے زینت اور فتنے میں اضافہ کرتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مختلف حدیثیں نقل کی ہیں، مثلاً: سيكون في آخر أمتي نساء كاسيات عاريات المعجم الصغير للطبراني. حدیث نمبر 1125۔

یعنی: میری امت کے آخری دور میں ایسی عورتیں ہوں گی جو پہن کر بھی ننگی دکھائی دیں گی۔ نمبر 4۔ حجاب کی چوتھی شرط، مصنف کے نزدیک یہ ہے کہ کپڑا ڈھیلا ڈھالا ہو۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنی تائید میں مختلف حدیثیں نقل کی ہیں۔

آخر میں انہوں نے حضرت فاطمہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ انہوں نے اس کو ناپسند کیا کہ مرنے کے بعد عورت کو ایسے کپڑے میں لپیٹا جائے جس سے اس کا عورت ہونا ظاہر ہوتا ہو۔ حلیۃ الاولیاء، جلد 2، صفحہ 43۔ نقل روایت کے بعد وہ لکھتے ہیں: فانظر إلى فاطمة بضعة النبي صلى الله عليه وسلم كيف استقبحت أن يصف الثوب المرأة وهي ميتة فلا شك أن وصفه إياها وهي حية أقبح وأقبح.

صفحہ 63۔ پس دیکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگر گوشہ فاطمہ نے مردہ عورت تک کو ایسے کپڑے میں رکھنا خبیث قرار دیا جس میں اس کے نسوانی اعضاء ظاہر ہوتے ہوں۔ پھر زندہ عورت کا ایسے لباس میں ہونا تو اور زیادہ برا ہوگا۔ نمبر 5۔

حجاب کی پانچویں شرط یہ ہے کہ کپڑا خوشبو میں بسا ہوا نہ ہو۔ بہت سی احادیث ہیں جو عورت کو اس سے روکتی ہیں کہ وہ خوشبو لگا کر باہر نکلے۔ پھر چار روایتیں نقل کرنے کے بعد مصنف لکھتے ہیں: وقال ابن دقيق العيدي وفيه حرمة التطيب على مريدة الخروج إلى المسجد لما فيه من تحريك داعية شهوة الرجال قلت فإذا كان ذلك حراما على مريدة المسجد فماذا يكون الحكم على مريدة السوق والأزقة والشوارع لا شك أنه أشد حرمة وأكبر إثما وقد ذكر الحيتمي في الزواجر جلد 2 صفحہ 37 أن خروج المرأة من بيتها متعطرة متزينة من الكبائر ولو أذن لها زوجها. صفحہ 65۔

ابن دقیق نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں مسجد میں جانے والی عورت کے لیے خوشبو لگانا خوشبو لگا کر نکلنے کو حرام قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں مردوں کے لیے شہوت کا محرک پایا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں جب یہ مسجد میں جانے والی عورت کے لیے حرام ہے تو وہ عورتیں جو بازار اور راستوں اور سڑکوں پر جاتی ہیں، یقینا ان کی حرمت اور ان کا گناہ شدید تر ہوگا۔ اور حیتمی نے لکھا ہے کہ عورت کا معطر اور مزین ہو کر گھر سے نکلنا گناہ کبیرہ ہے، خواہ اس کے شوہر نے اس کی اجازت دی ہو۔ نمبر 6۔

حجاب کی چھٹی شرط یہ ہے کہ لباس مردوں کے مشابہ نہ ہو۔ اس سلسلے میں انہوں نے مختلف روایتیں نقل کی ہیں، صفحہ 67۔ مثلاً: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال. صحیح البخاری، حدیث نمبر 5885۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کے مشابہ بنیں، اور ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو مردوں کے مشابہ بنیں۔ اس سلسلے میں ان کی تحقیق یہ ہے: أن اللباس إذا كان غالبُه لبس الرجال نُهيت عنه المرأة وإن كان ساترا. صفحہ 73۔ یعنی: ایسا لباس عورتوں کے لیے ممنوع ہے جس کا غالب حصہ مردوں جیسا ہو، اگرچہ وہ ساتر ہی کیوں نہ ہو۔

نمبر 7۔ حجاب کی ساتویں شرط یہ ہے کہ لباس کافر عورتوں کے مشابہ نہ ہو۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ بھی شریعت کا ایک عظیم اصول ہے کہ کفار سے تشبہ نہ اختیار کیا جائے، نہ عبادت میں، نہ تہواروں میں، نہ پوشاک میں۔ صفحہ 78۔

قرآن میں اس کا مجمل حکم ہے، مگر سنت میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے جن آیات سے استدلال کیا ہے، ان میں ایک: ولا يكونوا كالذين أوتوا الكتاب من قبل. سورہ نمبر 57 آیت 16 ہے۔ یعنی: اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی۔

اس سلسلے میں انہوں نے ابن تیمیہ اور ابن کثیر کے اقوال نقل کیے ہیں، جو کہتے ہیں کہ اس میں کفار سے تشبہ اختیار کرنے کی نہی نکلتی ہے۔ صفحہ 80۔ اس کے بعد انہوں نے وہ روایات نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، جنازہ، روزہ، حج، ذبائح، طعام، لباس، آداب و آداب و عادات، اور مختلف چیزوں میں کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ نمبر 8۔

حجاب کی آٹھویں شرط یہ ہے کہ عورت کا لباس لباسِ شہرت نہ ہو۔ اس سلسلے کی ایک حدیث یہ ہے، صفحہ 110: من لبس ثوب شهرة في الدنيا ألبسه الله ثوب مذلة يوم القيامة. مسند احمد، حدیث نمبر 5664۔ جو دنیا میں شہرت کا لباس پہنے، اللہ اس کو قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا۔

کتاب کے آخر میں مصنف نے اپنی تحقیق کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے: أن يكون ساترا لجميع بدنها إلا وجهها وكفيها على التفصيل السابق وألا يكون زينة في نفسه ولا شفافا ولا ضيقا يصف بدنها ولا مطيبا ولا مشابها للباس الرجال ولباس الكفار ولا ثوب شهرة. صفحہ 111۔ عورت کا لباس اس کے پورے بدن کو ڈھانپنے والا ہونا چاہیے، سوا چہروں اور دونوں ہاتھوں کے۔ اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا لباس بذاتِ خود زینت بن جائے، اور وہ نہ باریک ہو اور نہ تنگ ہو کہ بدن کے اعضاء ظاہر ہوں۔

وہ نہ خوشبو لگا ہوا ہو، اور نہ وہ مردوں اور کفار کے مشابہ ہو، اور نہ وہ لباسِ شہرت ہو۔ کتاب، خاتون اسلام، صفحہ نمبر 319۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.