Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Ghalat riwaaj

Urdu · 6 min

غلط رواج: موجودہ زمانے میں نکاح کی اصل اسلامی روح تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ مسلمانوں میں آج نکاح کا جو طریقہ عام طور پر نظر آتا ہے، وہ اسلامی نکاح سے زیادہ رواجی نکاح ہے۔ اس کا ایک نمونہ مہر ہے؛ لڑکی والے عام طور پر مہر زیادہ باندھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا مقصد مرد کے مقابلے میں عورت کے مفاد کی حفاظت ہے۔

ڈکشنری آف اسلام میں اس سلسلے میں حسبِ ذیل الفاظ درج ہیں: "The custom of fixing heavy dowers generally beyond the husband's means, especially in India, seems to be based upon the intention of checking the husband from ill-treating his wife, and above all from his marrying another woman, as also from wrongfully or causelessly divorcing the farmer. For in the case of divorce, the woman can demand the full payment of the dower. " The Dictionary of Islam by Thomas Patrick Hughes 1979، page 91: "بہت زیادہ مہر باندھنے کا رواج جو شوہر کے ذرائع سے زیادہ ہو، خاص طور پر ہندوستان میں، بظاہر اس مقصد سے ہے کہ شوہر کو اس سے روکا جائے کہ وہ بیوی کے ساتھ برا سلوک کرے، اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ وہ دوسری شادی نہ کر سکے، اور مزید یہ کہ وہ غلط طور پر یا بلا سبب اپنی بیوی کو طلاق نہ دے، کیونکہ طلاق کی صورت میں عورت پوری مہر کی ادائیگی کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ " مذکورہ مقصد کے تحت مہر زیادہ باندھنا اس مفروضے پر مبنی ہے کہ نکاح کے موقع پر مہر تو مقرر کرنا ہے، مگر اس کو ادا نہیں کرنا ہے۔

اگر نکاح کے ساتھ فوراً مہر ادا کر دیا جائے تو معنیِ طلاق یا اور کسی معنی کی حیثیت سے اس کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ جب مہر خود باقی نہیں رہا تو اس کے معنی ہونے کی حیثیت کیسے باقی رہے گی؟ مگر یہ مفروضہ سراسر اسلام کے خلاف ہے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اسلام میں مہر کی جائز صورتیں دو ہیں۔

اسلام میں مہر کی جائز صورتیں صرف دو ہیں: ایک مہرِ معجل، یعنی وہ مہر جو نکاح ہونے کے بعد اسی وقت ادا کر دیا جائے؛ دوسرے مہرِ معجل، یعنی وہ مہر جس کو فوراً ادا نہ کیا جائے بلکہ اس کی ادائیگی بعد کو ہو، مگر یہ بعد لازمی طور پر متعین ہونا چاہیے، یعنی مرد اس کی ادائیگی کی ایک اجل یعنی مدت مقرر کرے اور اس مدت پر لازماً اس کو ادا کر دے۔ تیسری مروجہ شکل، یعنی نکاح کے وقت ادائیگیِ مہر کی مدت مقرر نہ کرنا، ایک غیر شرعی طریقہ ہے۔ اس کی بنیاد پر جو کچھ کیا جائے وہ بھی یقیناً غیر شرعی ہوگا۔ اب غور کیجیے کہ جب مہر کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ یا تو اس کو فوراً بوقت نکاح ادا کر دیا جائے، یا نکاح کے وقت ایک متعین مدت مقرر کی جائے اور اس متعین مدت پر اس کو ضرور ادا کر دیا جائے، تو ایسی صورت میں طلاق کو روکنے کے لیے زیادہ مہر مقرر کرنا بالکل بے معنی ہے۔

صرف وہی مہر معنی کا کام کر سکتی ہے جو بلا تعین مدت مقرر کی جائے۔ مگر یہ خود اسلامی طریقے کے مطابق نہیں۔ مہر کے لیے ادائیگی مدت کی تعین اپنے آپ اس کو اس اعتبار سے بے اثر کر دیتی ہے کہ وہ مرد کے لیے معنیِ طلاق کا کام دے۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 317۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.