Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Sahaba ki shaadi

Urdu · 4 min

صحابہ کی شادی۔ دورِ اول میں شادی کوئی دھوم کی چیز نہ تھی؛ وہ ایک ایسی چیز تھی جس کو بس سادہ طور پر انجام دے لیا جائے۔ اس کے رسوم اور اس کے اخراجات اتنے مختصر ہوں کہ وہ طرفین کے لیے کسی بھی اعتبار سے بوجھ نہ بنیں۔ صحابہ کے یہاں شادی کی تقریب ہر قسم کے تکلف اور نمائش سے بالکل خالی ہوتی تھی۔

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم بوجھ ہو۔ إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤونة مسند احمد، حدیث نمبر 24529۔ اور کم بوجھ والا نکاح یقیناً وہ ہے جو اپنے موجودہ وسائل کے ذریعے آسانی کے ساتھ ہو جائے، نہ کہ وہ جس کا تحمل اس کے وسائل نہ کر سکتے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا معاملہ آیا جس کا نکاح ایک خاتون سے طے ہوا تھا۔

آپ نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس مہر دینے کے لیے کیا ہے؟ اس نے کہا کہ کچھ نہیں۔ آپ نے دوبارہ پوچھا، اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ اس کے بعد آپ نے اس سے یہ نہیں کہا کہ تم جا کر کسی سے قرض لاؤ اور پھر اس کے ذریعے سے نکاح کرو، بلکہ اگلا سوال آپ نے یہ کیا کہ کیا تمہارے پاس کچھ قرآن ہے؟

یعنی قرآن کا کچھ حصہ تم کو یاد ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا: جاؤ، میں نے قرآن کے اسی محفوظ حصے کو مہر قرار دے کر اس خاتون کے ساتھ تمہارا نکاح کر دیا۔ زوجتك بما معك من القرآن صحیح البخاری، حدیث نمبر 5132۔

مشہور صحابی حضرت عبدالرحمن ابن عوف نے مدینے میں شادی کی۔ اس وقت مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے، مگر انہوں نے بس خاموشی سے ایک خاتون کے ساتھ نکاح کر لیا۔ اس سلسلے میں امام احمد نے مفصل روایت نقل کی ہے، جس کا ایک حصہ یہ ہے: فجاء وعليه ردع زعفران فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: مهيم فقال: یا رسول الله تزوجت امرأة فقال: ما استقتها قال: وزن نوات من ذهب مسند احمد، حدیث نمبر 13863۔ یعنی حضرت عبدالرحمن ابن عوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے اوپر زعفران کی خوشبو کا اثر تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اس کو کتنا مہر دیا؟ انہوں نے کہا کہ کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔

کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 315۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.