Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Ghair afzal tareeqa

Urdu · 4 min

غیر افضل طریقہ۔ روایات میں آتا ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق منبر پر چڑھے اور حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ مہر میں کس نے 400 درہم پر اضافہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا مہر آپس میں 400 درہم یا اس سے کم ہوتا تھا، اور اگر مہر میں زیادتی تقویٰ اور عزت کی بات ہوتی تو تم مہر کے بارے میں ان سے آگے نہیں جا سکتے تھے۔ مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 2766۔

دوسری روایت میں ہے کہ خلیفہ دوم نے فرمایا کہ اے لوگو! تم عورتوں کے مہر زیادہ نہ باندھو، اور مجھے جس شخص کے بارے میں بھی یہ اطلاع ملے گی کہ اس نے رسول اللہ کے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے یا کسی کو اس سے زیادہ مہر دیا گیا ہے، تو میں زیادہ مقدار کو لے کر اس کو بیت المال میں جمع کر دوں گا۔ یہ کہہ کر آپ ممبر سے اترے تو قریش کی ایک عورت سامنے آئی۔ اس نے کہا: اے امیرالمومنین!

اللہ کی کتاب زیادہ پیروی کے قابل ہے یا آپ کا قول؟ حضرت عمر نے کہا کہ اللہ کی کتاب۔ عورت نے کہا کہ ابھی آپ نے لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کریں، اور اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ اور اگر تم نے کسی عورت کو زیادہ مال دیا ہے تو طلاق کے بعد اس میں سے کچھ نہ لو۔ سورہ نمبر 4 آیت 20۔

یہ سن کر حضرت عمر نے کہا: ہر ایک عمر سے زیادہ جانتا ہے۔ يعني كل أحد أفقه من عمر آپ نے یہ فقرہ تین بار کہا۔ اس کے بعد حضرت عمر دوبارہ ممبر پر آئے اور لوگوں سے کہا: إني كنت نهيتكم أن تغالوا في صداق النساء، ألا فليفعل رجل في ماله ما بدله سنن الکبریٰ البیہقی، 14336۔ میں نے تم کو عورتوں کا مہر زیادہ باندھنے سے روکا تھا، اب ہر آدمی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے مال میں جو چاہے کرے۔

عن عمر قال: لو كان المهر ثناءً ورفعةً في الآخرة، كان بنات النبي صلى الله عليه وسلم ونساؤه أحق بذلك ابو عمر ابن فضالة فی آمالہ كنز العمال، 45797 مہر اگر آخرت میں بلندی اور عظمت کی چیز ہوتی تو یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں اس کی زیادہ مستحق تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح میں زیادہ مہر باندھنا، اگرچہ خالص قانونی اعتبار سے بالکل ممنوع چیز نہیں، مگر وہ یقینی طور پر غیر افضل چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے مہر کم تھے۔ ان میں سے کسی کے بارے میں بھی یہ ثابت نہیں کہ اس نے اپنا یا اپنی بیٹیوں کا مہر زیادہ مقرر کیا ہو۔

کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 314۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.