Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Ziyaada maher nahi

Urdu · 5 min

زیادہ مہر نہیں، مہر رقم میں بھی دی جا سکتی ہے اور کسی چیز کی صورت میں بھی۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی مقدار حسبِ استعداد مقرر کی جائے، وہ اتنی ہی ہو کہ آدمی سہولت کے ساتھ اس کو اسی وقت ادا کر سکے۔ مہر کی کم سے کم حد کے بارے میں فقہاء کے مختلف اقوال ہیں، تاہم ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مہر کی کم سے کم مقدار یہ ہے کہ وہ اتنی ہو کہ اس کے ذریعے سے ضرورت کی کوئی چیز خریدی جا سکے۔ ہر وہ رقم مہر بن سکتی ہے جو کسی چیز کی قیمت ہو۔

كُلُّ مَا سَحَّ ثَمَنًا سَحَّ صَدَاقًا. الفقہ علی المذاہب الأربعة، جلد 4، صفحہ 107۔ احادیث میں کوئی بھی ایسی حدیث نہیں جس میں زیادہ مہر مقرر کرنے کی ہمت افزائی کی گئی ہو۔ اس کے برعکس بہت سی روایتیں ہیں جن میں کم مہر مقرر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

اس طرح کے معاملات میں اسلام کا طریقہ ہمیشہ تلقین کا ہوتا ہے، نہ کہ تحریم کا۔ چنانچہ زیادہ مہر کو اگرچہ بالکل ممنوع قرار نہیں دیا گیا ہے، مگر تمام روایتیں اسی کے حق میں ہیں کہ مہر زیادہ نہ باندھی جائے۔ چند روایتیں یہ ہیں: نمبر 1: عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «خَيْرُهُنَّ أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا». صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4034۔

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سب سے بہتر عورت وہ ہے جس کا مہر سب سے آسان ہو۔ " نمبر 2: عَنْ عَائِشَةٍ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَسْهِيلُ أَمْرِهَا وَقِلَّةُ صَدَاقِهَا». صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4095۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی برکت میں سے یہ ہے کہ اس کا معاملہ آسان ہو اور اس کا مہر کم ہو۔

نمبر 3: أعظمُ النِّسَاءِ بَرْكَةً أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا. مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 2732۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سب سے زیادہ برکت والی عورت وہ ہے جس کا مہر سب سے آسان ہو۔ " نمبر 4: عَنْ أَبِي سَلْمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَٰنِ أَنَّهُ قَالَ: «سَأَلْتُ عَائِشَةً زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم: «كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم؟

» قَالَتْ: «كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ سِنْتَيْ عَشَرَتَينَ أُوقِيَةً وَنَّشًّا». قَالَتْ: «أَتَدْرِي مَنْ نَشُّ قَالَ؟ » قُلْتُ: «لَا». قَالَتْ: «نِسْفُ أُوقِيَةٍ فَتِلْكَ خَمْسُمِئَةٍ دِرْهَمٍ، فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِأَزْوَاجِهِ».

صحیح مسلم، حدیث نمبر 1426۔ یعنی حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر کتنا تھا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر اپنی بیویوں کے لیے 12 عوقیہ اور 1 نش تھا۔ انہوں نے کہا: "کیا تم جانتے ہو کہ نش کیا ہے؟ " راوی نے کہا کہ نہیں، انہوں نے کہا کہ نصف عوقیہ، یہ تقریباً 500 درہم ہوا۔

یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر اپنی بیویوں کے لیے تھا۔ لیکن ام حبیبہ کا مہر سب سے زیادہ تھا۔ روایت کے مطابق: فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ أَنَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَمْهَرَهَا عَنْهُ أَرْبَعَةَ آَلَافٍ. سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2107۔

یعنی نجاشی نے ام حبیبہ کی شادی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھی اور ان کا مہر 4000 درہم آپ کی طرف سے نجاشی نے خود مقرر کیا تھا۔ کتاب: خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 312۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.