Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Maher ka mas'ala

Urdu · 4 min

مہر کا مسئلہ معاشرتی زندگی میں اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان ایک متوازن تقسیم قائم کی ہے۔ یہ تقسیم عمل کے اعتبار سے ہے؛ اسلام نے دونوں صنفوں کے درمیان ایک واضح تقسیمِ عمل کو ملحوظ رکھا ہے۔ اسلام کے مطابق گھر کو سنبھالنے کی ذمہ داری بنیادی طور پر عورت کے اوپر ہے، اور مالیات کی فراہمی کی ذمہ داری بنیادی طور پر مرد کے اوپر۔ تقسیمِ کار کا یہ اصول جن نصوص سے نکلتا ہے، ان میں سے ایک قرآن کی یہ آیت ہے: «الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ».

سورہ نمبر 4، آیت 34۔ یعنی مرد عورتوں کے اوپر قوّام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال سے خرچ کیا۔ پس جو نیک عورتیں ہیں، وہ فرمانبرداری کرنے والی، پیٹھ پیچھے نگہبانی کرنے والی ہیں، اللہ کی حفاظت سے۔ ہر گھر ایک چھوٹی سی ریاست ہے؛ اس ریاست کا ایک مسئلہ اس کا اندرونی انتظام ہے، اور اس کا دوسرا مسئلہ اس کی مالیات، یعنی بالفاظِ دیگر، خارجی اسبابِ حیات کی فراہمی ہے۔

عورت اپنی پیدائشی بناوٹ کے اعتبار سے پہلے کام کے لیے زیادہ موزوں ہے، اور مرد اپنی پیدائشی بناوٹ کے اعتبار سے دوسرے کام کی زیادہ بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے اسلام کی معاشرتی اور انتظامی تقسیم میں یہ کیا گیا ہے کہ گھر کے داخلی امور کی ذمہ داری بنیادی طور پر عورت پر ڈالی گئی ہے، اور گھر کے خارجی امور اور مالیات کی فراہمی کی ذمہ داری بنیادی طور پر مرد کے اوپر ہے۔ نکاح کے وقت ایک مرد مہر کے نام سے جو رقم اپنی بیوی کے حوالے کرتا ہے، اس کا تعلق اسی خاص پہلو سے ہے۔ اسلام کے مطابق چونکہ مرد اصولی طور پر عورت کے اخراجات کا ذمہ دار ہے، اس لیے جب وہ ایک عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہ نکاح کے ساتھ اس ذمہ داری کو قبول کرتا ہے کہ وہ عورت کے تمام ضروری اخراجات کی کفالت کرے گا۔

مہر اسی کی ایک علامت ہے۔ مرد اپنی بیوی کو مہر کے طور پر ایک علامتی رقم ادا کر کے عمل کی زبان میں اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی مالیاتی کفالت کی ذمہ داری لے رہا ہے۔ مہر کی اصل حیثیت یہی ہے۔ کتاب "خاتونِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 307۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.