← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Maher e mu'ajjal
Urdu · 5 min
مہرِ معجل۔ مہر اصطلاحی طور پر اس رقم یا کسی متعین چیز کا نام ہے جو ایک مرد نکاح کے وقت اپنی بیوی کو ادا کرتا ہے۔ اس مہر کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس کو نکاح کے وقت فوراً ادا کر دیا جائے۔ مہر کی اس قسم کو مہرِ معجل کہتے ہیں۔
معجل کا لفظ اجلت سے بنا ہے، یعنی جلد یا بلا تاخیر ادا کی جانے والی مہر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانے میں عام رواج مہرِ معجل ہی کا تھا۔ وہ لوگ مختصر مہر باندھتے اور نکاح کے وقت ہی اس کو ادا کر دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ کا نکاح حضرت علی ابن ابی طالب سے کیا۔
اس سلسلے میں مختلف تفصیلات حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اس کا ایک جز مہر کے بارے میں ہے۔ نکاح کی بات طے ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ایک حصہ یہ ہے: وَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تَسْتَحِلُّ هَا بِهِ؟ فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: مَا فَعَلَتْ دِرْعٌ سَلَّحْتُكَهَا ۖ فَوَالَّذِي نَفْسُ عَلِيٍّ بِيَدِهِ إِنَّهَا لَحُطَمِيَّةٌ مَا ثَنَى مَا ثَمَنُوهَا أَرْبَعَةَ دَرَاهِمٍ فَقُلْتُ عِنْدِي فَقَالَ: قَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَابْعَسْ إِلَيْهَا بِهَا فَاسْتَحِلَّهَا بِهَا فَإِن كَانَتْ لَصَدَاقُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم.
دلائل النبوة للبیہقی، جلد 3، صفحہ 160۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: "کیا تمہارے پاس کوئی چیز بطور مہر ہے جس کے ذریعے تم فاطمہ کو اپنے لیے جائز کرو؟ " میں نے کہا کہ نہیں، خدا کی قسم، اے خدا کے رسول۔ آپ نے کہا کہ وہ زرہ کیا ہوئی جو میں نے تم کو دی تھی؟
حضرت علی کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں علی کی جان ہے، وہ زرہ ٹوٹ چکی تھی، اس کی قیمت 4 درہم بھی نہ تھی۔ پس میں نے کہا کہ وہ میرے پاس ہے۔ آپ نے کہا کہ میں نے تمہارا نکاح فاطمہ سے کر دیا، تو اس زرہ کو فاطمہ کے پاس بھیج دو اور اس کے ذریعے فاطمہ کو اپنے لیے جائز کرو۔ تو یہ تھا فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر۔
حضرت ربیعہ اسلمی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ربیعہ، تم نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ میں نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں۔ یہ سوال و جواب کئی بار ہوا۔
آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار کے فلاں قبیلے کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو بھیجا ہے اور کہا ہے کہ تم فلاں عورت سے میرا نکاح کر دو۔ چنانچہ میں نے جا کر کہا اور انہوں نے میرا نکاح کر دیا، مگر مجھے یہ غم تھا کہ میرے پاس مہر دینے کے لیے کچھ نہیں۔ میں نے واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: يَا بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيِّ، اِجْمَعُوا لَهُ وَزْنَ نَوَاتٍ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ: فَجَمَعُوا لِي وَزْنَ نَوَاتٍ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذْتُ مَا جَمَعُوا لِي فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: اِذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ: هَذَا صَدَاقُهَا.
فَأَتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ: هَذَا صَدَاقُهَا فَرَضُوهُ. فَرَضُوهُ وَقَبِلُهُ. فَرَضُوهُ وَقَبِلُهُ. فَرَضُوهُ وَقَبِلُهُ وَقَالُوا: كَثِيرٌ طَيِّبٌ.
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے سردار بریدہ اسلمی سے کہا کہ اے بریدہ، تم لوگ اس کے لیے ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا جمع کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے میرے لیے ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا جمع کیا۔ پھر میں نے جو کچھ انہوں نے جمع کیا تھا، اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا کہ اس کو لے کر ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ یہ اس کا مہر ہے۔ پھر میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ یہ اس کا مہر ہے۔
انہوں نے قبول کیا اور وہ راضی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ بہت ہے، اچھا ہے۔ مسند احمد، حدیث نمبر 16573، کتاب خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 308۔