Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Asal atiyya

Urdu · 5 min

اصل عطیہ: بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ بظاہر سادہ شادی کرتے ہیں، وہ نکاح کے مخصوص دن اپنی لڑکی کو زیادہ سامان نہیں دیتے، مگر بعد کو وہ سب کچھ مزید اضافے کے ساتھ اس کو دے دیتے ہیں جو ایک دنیا دار آدمی نکاح کے وقت نمائش کر کے اپنی لڑکی کو دیتا ہے۔ مگر یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق نہیں۔ حضرت فاطمہ رسول اللہ کی محبوب صاحبزادی تھیں، مگر آپ نے ان کو نہ نکاح کے دن گھر بنانے کے لیے ساز و سامان کا ڈھیر دیا، اور نہ آپ نے ایسا کیا کہ اولاً سادہ انداز میں نکاح کر دیں اور اس کے بعد خاموشی کے ساتھ ہر چیز صاحبزادی کے گھر پہنچا دیں۔ حتیٰ کہ حضرت فاطمہ نے درخواست کی، تب بھی آپ نے دینی نصیحت کے سوا ان کے لیے اور کچھ نہ کیا۔

حضرت فاطمہ کے بارے میں ایک روایت مختلف الفاظ میں حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ کو گھر کا سارا کام خود کرنا پڑتا تھا، وہ اس سے بہت پریشان تھیں۔ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے۔ حضرت علی نے اپنی اہلیہ حضرت فاطمہ سے کہا کہ تمہارے والد کے پاس گرفتار شدہ غلام آئے ہیں، تم ان کے پاس جاؤ اور اپنی خدمت کے لیے ایک غلام مانگ لو۔

حضرت فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ نے کہا کہ میری بیٹی، تم کس ضرورت سے آئی ہو؟ انہوں نے کہا کہ آپ کو سلام کرنے کے لیے۔ حضرت فاطمہ شرم و حیا کی وجہ سے آپ سے سوال نہ کر سکیں اور سلام کر کے واپس آ گئیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے گھر پر آئے۔

اس کے بعد جو گفتگو ہوئی، اس کے الفاظ ایک روایت کے مطابق یہ تھے: فقالت یا رسول اللہ والله لقد مجلت یدا من الرحا اطحن مره واعجن مره فقال لہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان یرزقکی اللہ یعتی وسدلکی علی خیر من ذالک اذا لزمتی مزجعکی فسبح اللہ ثلاث وثلاثین وکبری ثلاث وثلاثین واحمدی اربع وثلاثین فذالک میۃ فہو خیر لک من الخادم مسند احمد حدیث نمبر 2651 یعنی: حضرت فاطمہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، میرے دونوں ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں، کبھی چکی پیستی ہوں اور کبھی گوندتی ہوں، اس لیے مجھے ایک خادم دے دیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو رزق مقدر کیا ہوگا، وہ تمہارے پاس آ جائے گا، اور میں تم کو اس سے بہتر چیز بتاتا ہوں۔ تم جب سونے کے لیے جاؤ تو 33 بار اللہ کی تسبیح کرو، اور 33 بار اللہ کی تکبیر کرو، اور 34 بار اللہ کی حمد کرو، یہ کل سو ہوئے۔ یہ عمل تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔

جو لوگ اپنی لڑکیوں کو بڑے بڑے جہیز دینے کے لیے حضرت فاطمہ کے نکاح کی مثال پیش کرتے ہیں، کیا ان میں کوئی ہے جو ایسا کر سکے کہ اس کی لڑکی اس کو اپنے ہاتھ کے چھالے دکھائے اور وہ اس کو ذکر اور تسبیح کی تلقین کرے، لڑکی اس کو اپنی مصیبتیں بتائے، اور باپ یہ کہے کہ بیٹی تم اللہ سے دعا کر لیا کرو؟ کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 304.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.