چند ضروری سامان واضح ہو کہ اوپر کی حدیث میں "جہزہ" کا لفظ آج کل کے معروف جہیز دینے کے لیے استعمال نہیں ہوا ہے۔ تجہیز کے معنی عربی زبان میں سادہ طور پر سامان تیار کرنے کے ہیں، جیسا کہ خران میں آیا ہے: فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ سورہ نمبر 12 آیت 70۔ یعنی: جب انہوں نے ان کا سامان— یعنی جب انہوں نے ان کا سامانِ سفر درست کیا۔ مذکورہ حدیث میں "جہزہ" کا لفظ اسی سادہ مفہوم میں ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت فاطمہ کے نکاح کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رخصت کیا، تو چند ضروری چیزوں کا انتظام کر کے ان کے ساتھ کر دیا۔ یہ ضروری چیزیں وہی تھیں جن کا ذکر اوپر کی روایات میں موجود ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ شادی کے وقت لڑکی کو کافی سامان بطور جہیز دینا چاہیے تاکہ وہ آسانی کے ساتھ اپنا نیا گھر بنا سکے، مگر یہ سراسر جاہلی تصور ہے۔ اسلام کے تصورِ نکاح سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
اگر یہ کوئی اسلامی چیز ہوتی تو یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کا نمونہ پایا جاتا، کیونکہ آپ دنیا میں اسی لیے آئے کہ دنیا و آخرت کے تمام معاملات میں خدا پرستانہ زندگی کا سچا نمونہ قائم کر دیں۔ کتاب "خاتونِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 303۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.