Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Fatima ka jahez

Urdu · 3 min

فاطمہ کا جہیز۔ وہ جہیز کیا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کو دیا، اس کی تفصیل روایات میں آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معروف معنوں میں کوئی جہیز نہ تھا، بلکہ انتہائی معمولی قسم کا چند ضروری سامان تھا۔ یہاں ہم اس سلسلے کی چند روایات نقل کرتے ہیں۔

عن عليٍ قال: جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة في خميلٍ وقربةٍ وبسادةِ أدمٍ حشوها ليفُ الإدخر. مسند احمد، حدیث نمبر 643۔ یعنی: حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کو جہیز میں ایک چادر، ایک مشکیزہ، اور ایک چمڑے کا تکیہ دیا جس میں ازخر گھاس کا بھراؤ تھا۔ عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: لما جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة إلى عليٍ بعث معها بخميلٍ قال عطاءٌ: ما الخميل؟

قال: قطيفةٌ ووسادةٌ من أدمٍ حشوها ليفٌ أو إذخرٌ وقربةٌ. كانا يفترشان الخميل ويلتحفان بنصفه. المعجم الكبير للطبراني. حدیث نمبر 1446۔

یعنی: حضرت عبد الله بن عمر کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کے نکاح کے بعد ان کو حضرت علی کے یہاں بھیجا تو ان کے ساتھ ایک خميل تھا۔ عطار راوی نے پوچھا کہ خميل کیا ہے؟ حضرت عبد الله نے کہا کہ چادر۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چمڑے کا ایک تکیہ دیا جس کا بھراؤ کھجور کی چھال یا ازخر تھا، اور ایک مشکیزہ۔

وہ دونوں اس چادر کا آدھا حصہ بچھاتے اور آدھا اوڑھ لیتے۔ عن أسماء ابنة أميس قالت: لما أهديت فاطمة إلى عليٍ لم نجد في بيته إلا رملاً مبسوطاً ووسادةً حشوها ليفٌ وجرةً وكوزاً. مصنف عبدالرزاق، حدیث نمبر 9781۔ یعنی: حضرت اسماء بنت امیس کہتی ہیں کہ فاطمہ جب رخصت کر کے علی کے یہاں بھیجی گئیں تو ہم نے ان کے گھر میں اس کے سوا کچھ نہ پایا کہ وہاں ریت بچھی ہوئی تھی اور ایک تکیہ تھا جس کا بھراؤ کھجور کی چھال تھا اور ایک گھڑا تھا اور ایک پانی پینے کا پیالہ۔

کتاب: خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 302۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.