← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Tahzeeb-e-Jadeed ka masala
Urdu · 19 min
تہذیبِ جدید کا مسئلہ: موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب نے بہت سے مسئلے پیدا کیے، یہ مسئلے حقیقی سے زیادہ مصنوعی ہیں۔ مغربی تہذیب نے بہت سے معاملات میں غیر فطری انداز اختیار کیا، اس کے نتیجے میں غیر فطری مسائل پیدا ہوئے۔ اس کے بعد مزید غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے غیر فطری طور پر ان کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
انہی میں سے ایک طلاق کا مسئلہ بھی ہے۔ مغرب میں آزادیِ نسواں کے نام پر جو تحریک شروع ہوئی، وہ اپنے ابتدائی جذبے کے اعتبار سے بالکل غلط نہ تھی، مگر اس کے علمبردار اس کی حد کو نہ جانتے تھے۔ چنانچہ آزاد سماج بنانے کی کوشش بالآخر اباہیت پسند سماج یعنی پرمیسو سوسائٹی تک جا پہنچی۔ عورتوں اور مردوں کے درمیان لامحدود اختلاط شروع ہو گیا۔
اس نے نکاح کے بندھن کو کمزور کر دیا۔ مرد اور عورت میاں اور بیوی نہ رہے، بلکہ حدیث کے الفاظ میں زواقین اور زواقات بن گئے۔ المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 7848۔ اس کو مزید تقویت صنعتی دور کی اس آسانی سے حاصل ہوئی کہ عورت فوراً ہی اپنے لیے آزاد معاش حاصل کر سکتی تھی۔
جدید صنعتی معاشرے میں ایک عورت جتنی آسانی سے اپنے لیے ذریع معاش حاصل کر لیتی ہے، وہ اس سے پہلے کبھی عورت کے لیے ممکن نہ تھا۔ اس کی وجہ سے مرد کی خوامیت متاثر ہوئی، اور عورتیں مرد کے زیر اثر رہنے پر راضی نہ ہو سکیں۔ اور معاشرتی زندگی میں وہ مسائل پیدا ہوئے جنہوں نے طلاقوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھا دی۔ طلاق کو روکنے کے لیے مغربی حکماء نے یہ تدبیر کی کہ مرد پر یہ قانونی پابندی لگا دی کہ طلاق کے بعد بھی اس پر لازم ہوگا کہ وہ عورت کو گزارا دیتا رہے۔
یہ گزارا مغربی معیار کے مطابق مقرر ہوا۔ چنانچہ اکثر حالات میں طلاق کے معنی مرد کے لیے یہ ہو گئے کہ وہ اپنے سرمائے کا بڑا حصہ اپنی متعلقہ بیوی کو دے دے، اور مزید زندگی بھر کما کما کر اس کا حصہ اسے ادا کرتا رہے۔ اس غیر فطری صورتحال کی ایک مثال لارڈ برٹرین رسل ہے۔ برٹرین رسل، 1872 تا 1970، ایک نہایت ذہین اور تعلیم یافتہ انگریز تھا۔
اس کو ایک ایسی عورت درکار تھی جو اس کی ذہنی سطح کے مطابق اس کی رفیقِ حیات بن سکے۔ اس نے شادی کی، مگر تجربے کے بعد اس نے محسوس کیا کہ اس کی بیوی اس کی پسند کے مطابق نہیں ہے۔ ناموافقت ظاہر ہونے کے بعد اس نے فوراً اس سے علیحدگی اختیار نہیں کی۔ سخت ذہنی اذیت کے باوجود اس کے بعد وہ تقریباً 10 سال تک اس کے ساتھ نباہ کرتا رہا۔
آخر کار اس نے اس کو طلاق دے کر دوسری شادی کی۔ دوسری عورت سے بھی نباہ نہ ہو سکا، اور پھر اس کو چھوڑ کر برٹرین رسل کو تیسری شادی کرنی پڑی۔ یہ طلاق برٹرین رسل کو بہت مہنگا پڑا۔ طلاق کے بعد اس کو ازروئے قانون اپنی بیویوں کو جو رقم ادا کرنی پڑی، اس نے برٹرین رسل کی معاشیات کو برباد کر دیا۔
چنانچہ وہ اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے: "the financial burden was heavy and rather disturbing; I had given 10,000 of my noble prize cheque for a little more than 11,000 to my third wife, and I was now paying alimony to her and to my second wife as well as paying for the education of my younger son." Added to this: there were heavy expenses in connection with my elder son's illness, and the income taxes which for many years he had neglected to pay now fell to me to pay. برٹرین رسل، آٹوبیوگرافی 1978، page 563 to 64۔ مالیاتی بوجھ میرے اوپر بہت بھاری اور پریشان کن تھا۔ مجھ کو اپنے نوبل انعام کے 11,000 پاؤنڈ میں سے 10,000 پاؤنڈ اپنی تیسری بیوی کو دے دینا پڑا۔
اور اب میں اس کو اور اپنی دوسری بیوی کو نان نفقے کی رقم بھی ادا کر رہا تھا۔ اور اسی کے ساتھ اپنے چھوٹے بچے کی تعلیم کی ادائیگی بھی میرے ذمے تھی۔ مزید اضافہ یہ کہ میرے بڑے لڑکے کی بیماری کے سلسلے میں بھی بھاری اخراجات تھے۔ اور اس کے لڑکے کے کئی سال کا انکم ٹیکس جو وہ ادا نہیں کر سکا تھا، وہ بھی مجھ کو ہی ادا کرنا پڑا۔
مغرب کا یہ خانون بظاہر عائلی زندگی میں اصلاح کے لیے بنایا گیا تھا، مگر وہ مغربی ممالک کے لیے الٹا پڑا۔ برٹرین رسل کے مذکورہ تجربہ جیسے تجربات بے شمار لوگوں کو پیش آئے۔ لوگوں نے دیکھا کہ بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں انہیں اس کی بہت بڑی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ لوگوں کو نکاح کا طریقہ بے حد مہنگا معلوم ہوا۔
حتیٰ کہ ان کے اندر نکاح کے خلاف رجحان پیدا ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عورت اور مرد نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہنے لگے۔ چنانچہ آج مغرب کی نئی نسل میں تقریباً 50% وہ لوگ ہیں جو غیر منکوحہ بیویوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ جدید مغربی عورت کے بارے میں ایک رپورٹ کا خلاصہ اخبارات میں حسبِ ذیل الفاظ میں شائع ہوا ہے: "فرانس میں ایسے مردوں اور عورتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہتے ہیں۔
" سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فرانس میں 12 ملین شادی شدہ جوڑے ہیں، اور 1 ملین سے زیادہ غیر شادی شدہ جوڑے۔ 1972 سے روایتی نکاح کی تعداد میں بہت کمی واقع ہوئی ہے۔ امریکہ کے بارے میں اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عورتوں میں نکاح کی شرح تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ نکاح کی تعداد میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ امریکی عورتیں شادی اور روزگار میں ٹکراؤ محسوس کرتی ہیں۔
شادی شدہ زندگی کے ساتھ کام کرنا انہیں مشکل معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے بہت سے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا ہے، بغیر اس کے کہ انہوں نے باقاعدہ نکاح کیا ہو۔ عملی شادی: ایک مرد اور ایک عورت کا ایک ساتھ رہنا، بغیر اس کے کہ انہوں نے نکاح کیا ہو، نہ صرف ایک ہیمبرگ میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، بلکہ وہ ایک خاص جرمن انداز بنتا جا رہا ہے۔ اب یہ رجحان پیدا ہو رہا ہے کہ غیر شادی شدہ جوڑوں کے درمیان خانون دانوں کے ذریعے زیادہ مفصل قسم کے معاہدے کیے جائیں۔
پچھلے 10 برسوں میں ایسے غیر شادی شدہ جوڑوں کی تعداد 4 گنا بڑھ گئی ہے جو ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہتے ہیں۔ یہ بات ایک حالیہ جائزے میں بتائی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے 10 برس کے دوران 18 سال اور 25 سال کے درمیان عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں میں 10 گنا حد تک عملی شادیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس طرح اب مغربی جرمنی میں ان جوڑوں کی تعداد بڑھ کر 1 ملین تک پہنچ جاتی ہے جو ہر صبح کو ایک ساتھ اٹھتے ہیں، حالانکہ انہوں نے اپنے آپ کو نکاح کے بندھن میں نہیں باندھا۔
Togetherness without marriage: de facto marriage—a man and a woman living together without being legally married—is not only on the increase in Hamburg but has taken a special German twist with a trend to engage lawyers for elaborate contracts between the non-spouses. In the last 10 years, the number of unmarried couples living together has quadrupled, according to a poll by M. Night, a market research agency, among people in the 18 to 25 age bracket. There are actually 10 times as many de facto marriages as 10 years ago that adds up to 1 million West German couples who wake up every morning with one another but have never tied the knot.
UNIDPA: The Times of India, New Delhi, November 70, 1985. Sociologists in France are puzzled why more and more men and women there prefer living together without marriage as cohabiting couples rather than as married couples, though married couples have no legal existence in France and there is insecurity over issues like custody and inheritance. The practice has caught on in a big way. Official statistics published in Le Monde reveal that against 12 million married couples in France, there are now over a million cohabiting couples since 1972.
The number of traditional marriages has been declining and hit its all-time low in 1985. What is happening to the institution of marriage? ask sociologists. Curiously, the cohabiting couples enjoy greater tax benefits than married couples.
The 10 deduction and allowance doubles up because of separate assessments and municipalities certify that a couple is cohabiting, giving it the same welfare and public transport benefits as married couples. Sociologists, including Pierre Allon, au direct attribute the trend to four major causes: spread of contraceptives has made marriage unnecessary until a couple wants children. There is a reluctance to make long-term commitments; working women enjoy greater independence and can stay unmarried or get divorced more easily and pervasive unemployment has changed attitudes. According to the United States National Center for Health Statistics, the marriage rate for American women is at an all-time low.
Its latest survey reveals that for the first time since 1940, the marriage rate for single women in the 15 to 44 age group has dropped below the magic figure of 100 per 1,000. This has naturally reflected in the number of marriages. While in 1982, over 2. 5 million marriages were performed.
A year later, this number came down to 2. 445,604. Some sociologists have suggested that for good or bad, American women, especially those belonging to the middle and upper middle class, see a conflict between marriage and their pursuit of a career. Indeed, despite the resurgence of traditionalism, women are forgoing the marriage option because of an increasing acceptance of men and women living together without tying the matrimonial knot.
Furthermore, there is even less disapproval of unmarried women having children. The Times of India, New Delhi, May 17, 1986. کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 294.