ہندوستان کا تجربہ طلاق کو مشکل بنانے کا دوسرا تجربہ وہ ہے جو ہندوستان میں پیش آیا۔ ہندوستان کے قدیم مصلحین نے بظاہر عورت کے تحفظ کے لیے مذہبی طور پر طلاق کو ممنوع قرار دے دیا۔ مزید یہ کہ عورت کے اندر طلاق کا رجحان روکنے کے لیے انہوں نے یہ کیا کہ طلاق کے بعد عورت کے لیے نکاح ثانی کا راستہ تمام تر بند کر دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے جو قوانین بنائے اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک بار جب شادی ہو جائے تو اس کے بعد نہ مرد اسے طلاق دے سکتا ہے اور نہ عورت کے لیے ممکن ہے کہ وہ پہلے شوہر سے جدائی کے بعد دوسرا نکاح کر سکے۔
مگر یہ اصلاح غیر فطری تھی، چنانچہ ہندو سماج کو اس کی بہت مہنگی قیمت دینی پڑی۔ عورت اور مرد اگر نکاح کے بعد ایک دوسرے کو مطمئن نہ کر سکے تو ان کی ساری زندگی بدترین تلخی میں گزرتی تھی، کیونکہ نہ مرد کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور نہ عورت کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے جدا ہو کر اپنا دوسرا نکاح کر سکے۔ اس کے لیے صرف یہ ممکن تھا کہ ساری عمر ایک غیر مطلوب مرد کے ساتھ پر اذیت زندگی گزارتی رہے، اور اگر اس کا شوہر درمیان میں مر جائے تو اپنے آپ کو جلا کر ستی ہو جائے۔ موجودہ زمانے میں اس مسئلے نے نئی شکل اختیار کی ہے۔
قانونی طور پر اگرچہ علیحدگی یا نکاح ثانی کو جائز کر دیا گیا ہے، مگر ہندو سماج عملاً آج بھی انہی روایات پر چل رہا ہے جو ہزاروں برس سے اس کے درمیان بنی ہیں۔ چنانچہ ہندو عورتوں کے بارے میں کثرت سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ وہ شوہروں سے ناموافقت کی بنا پر خودکشی کر لیتی ہیں۔ اس کا سبب مذکورہ بالا مسئلہ ہے۔ یہ عورتیں جانتی ہیں کہ اولا تو شوہروں سے علیحدگی مشکل ہے، اور اگر کسی طرح علیحدگی ہو جائے تو دوسرا نکاح اس سے بھی زیادہ مشکل۔
کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 300۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.