Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Talaq ke bad

Urdu · 5 min

طلاق کے بعد۔ اس سلسلے میں دوسرا سوال یہ ہے کہ طلاق کے بعد ایک عورت کے لیے اپنے ضروری اخراجات پورا کرنے کی صورت کیا ہے؟ اس کا ایک جواب اسلام کا خانونِ وراثت ہے۔ اسلام نے خاندانی جائیداد میں عورتوں کا جو حصہ مقرر کیا ہے، اگر اس پر باقاعدہ عمل درآمد ہو تو عورت کے لیے بے سہارا ہونے کا کوئی سوال نہیں۔

خاندانی جائیداد میں عورت کا مستقل حصہ مقرر کرنا ایک اعتبار سے اسی لیے ہے کہ عورت ہنگامی حالات میں اپنی کفالت آپ کر سکے۔ تاہم اسلام نے عورت کے معاشی مسئلے کو تمام تر وراثت پر منحصر نہیں رکھا، کیونکہ وراثت کا معاملہ ہمیشہ یقینی نہیں ہوتا۔ اس کا مزید انتظام اسلام کے قانونِ نفقات سے ہے۔ آدمی کو اس کا جواب اسلام کے قانونِ نفقات میں تلاش کرنا چاہیے، نہ کہ اسلام کے قانونِ طلاق میں۔

یہاں ہم مختصراً چند پہلوؤں کا ذکر کریں گے۔ نمبر 1: متعلقہ عورت اگر بے اولاد ہے یا اولاد کمانے کے قابل نہیں ہے، تو اسلامی شریعت کے مطابق اس کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے والد پر ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہی صورت دوبارہ لوٹ آئے گی جو شادی سے پہلے تھی۔ شادی سے پہلے باپ اپنی لڑکی کا کفیل تھا، طلاق کے بعد دوبارہ وہ اپنی لڑکی کا کفیل ہو جائے گا۔

فَالْإِنَاسُ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُنَّ إِلَى أَن يَتَزَوَّجْنَ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ مَالٌ وَلَيْسَ لَهُ أَن يُؤَاجِرَهُنَّ فِي عَمَلٍ وَلَا خِدْمَةٍ وَإِن كَانَ لَهُنَّ قُدْرَةٌ وَإِن طَلُقَتْ وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا عَادَتْ نَفْخَتُهَا عَلَى الْأَبِ فَتْحُ الْقَدِيرِ لِلْكَمَالِ ابن الہمام، جلد 4، صفحہ 410۔ یعنی: باپ پر اس کی لڑکیوں کا نفقہ اس وقت تک ہے جب تک وہ شادی نہ کرے، جبکہ لڑکیوں کے پاس مال نہ ہو۔ اور باپ کو حق نہیں کہ وہ انہیں کسی عمل یا خدمت پر لگائے، اگرچہ ان کے اندر اس کی قدرت کیوں نہ ہو۔ اور جب لڑکی کو طلاق ہو جائے اور اس کی عدت پوری ہو جائے تو اس کا نفقہ دوبارہ باپ پر لوٹ آئے گا۔

نمبر 2: متعلقہ عورت اگر ماں ہے، یعنی وہ ایسی اولاد رکھتی ہے جو صاحبِ معاش ہے، تو ایسی صورت میں اس کے اخراجات کی پوری ذمہ داری اس کی اولاد پر ہوگی۔ أَنَّ جَمِيعَ مَا وَجَبَ لِلْمَرْأَةِ وَجَبَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ عَلَى الْوَلَدِ مِنْ طَعَامٍ وَشَرَابٍ وَكِسْوَةٍ وَسُكْنَى حَتَّى الْخَادِمِ. الدُّرُّ الْمُخْتَارُ وَحَاشِيَةُ ابْنِ عَابِدِينَ رد المختار، جلد 3، صفحہ 622۔ یعنی: وہ سب جو بیوی کے لیے واجب ہے، وہ سب باپ اور ماں کے لیے لڑکے پر واجب ہوگا۔

یعنی کھانا، پینا، کپڑا، مکان، یہاں تک کہ خادم بھی۔ نمبر 3: اگر متعلقہ عورت کا باپ نہ ہو، یا اس کی اولاد اس کی کفالت کرنے کے قابل نہ ہو، تو دوسرے قریبی اور محرمِ اعزہ اس کی معاشی کفالت کے ذمہ دار ہوں گے، مثلاً چچا، بھائی وغیرہ۔ اگر یہ تیسری صورت بھی موجود نہ ہو تو اسلامی شریعت کی رو سے ریاست کا بیت المال اس کے اخراجات کو پورا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ متعلقہ عورت کو قانونی طور پر یہ حق ہوگا کہ وہ ریاست سے اس کو وصول کرے۔

شریعت کے اسی اہتمام و انتظام کی وجہ سے اسلام کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا، اور نہ آج ایسا ہے کہ مسلمان عورتیں طلاق پا کر بے سہارا پڑی ہوئی ہوں اور کوئی ان کی کفالت اور سرپرستی کرنے والا موجود نہ ہو۔ کتاب خاتونِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 292۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.