Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Mizaj e shari'at

Urdu · 4 min

مزاجِ شریعت: اس آیت کے سلسلے میں فقہاء کے درمیان ضمنی اختلافات ہیں، تاہم یہ بات تمام فقہاء کے درمیان متفق علیہ ہے کہ اس کا تعلق اس مسئلے سے ہے کہ طلاق واقع ہونے کے بعد وقتی طور پر سابق بیوی سے کیا سلوک کیا جائے۔ اس مسئلے سے اس آیت کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ طلاق اور علیحدگی کی تکمیل کے باوجود متعلقہ عورت کو مرد کی طرف سے مستقل گزارا یعنی maintenance دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دوسرا تصور تمام تر جدید تہذیب کی پیداوار ہے؛ یہ تصور کبھی بھی الہی شریعت میں نہیں پایا گیا، نہ اسلام میں اور نہ اسلام سے پہلے کی آسمانی شریعتوں میں۔ مسلم فقہاء کے درمیان آیت کے عملی انطباق کے سلسلے میں بہت کچھ جزئی اختلافات ہیں، مگر فقہاء میں سے کسی کی بھی یہ رائے نہیں ہے کہ اس آیت کے تحت مرد کے اوپر لازم ہے کہ وہ باقاعدہ طلاق واقع ہونے کے بعد بھی مستقل طور پر اپنی سابقہ بیوی کو گزارا دیتا رہے۔

ایک شخص بطور خود اس قسم کا خیال ظاہر کر سکتا ہے، مگر قرآن یا حدیث کے اندر اس کے حق میں کوئی دلیل یا ماخذ موجود نہیں، اور نہ اسلامی فقہاء میں سے کسی بھی فقیہ کی یہ رائے ہے۔ اسلامی فقہ میں اسی لیے اس متعے کو متعِ طلاق کہتے ہیں، نہ کہ متعِ حیات؛ یعنی وہ متع یعنی کچھ مال جو طلاق دے کر رخصت کرتے وقت عورت کو دیا جائے۔ قرآن ہر مسئلے کو فطری انداز میں حل کرنا چاہتا ہے، اس لحاظ سے یہ بات سراسر قرآنی روح کے خلاف ہے کہ جس مرد سے نباہ نہ ہونے کی بنا پر عورت کی جدائی ہوئی ہے، اسی مرد سے اس عورت کا نفقہ دلوایا جائے۔ یہ چیز سماج میں منفی ذہنیت پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گی۔

چنانچہ قرآن میں نکاح و طلاق کے احکام کے ذیل میں ارشاد ہوا ہے: وَإِنْ يَتَفَرَّقَ يُغْنِي اللَّهُ كُلَّمْ مِنْ سَعَتِهِ ۖ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا سورہ نمبر 4، آیت 130۔ یعنی: اور اگر دونوں جدا ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنی وسعت سے بے نیاز کر دے گا، اور اللہ وسعت والا، حکمت والا ہے۔ اللہ کی وسعت سے مراد وہ وسیع فطری نظام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے بندوں کے لیے مہیا کر رکھا ہے۔ عورت کو جب طلاق ہو جائے تو اس کے تمام خونی رشتوں میں فطری طور پر اس سے ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے، اور وہ کسی دباؤ کے بغیر اس کی مدد اور سرپرستی کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔

خود عورت کے اندر نئی قوتِ ارادی ابھرتی ہے، اور وہ اپنے مسئلے کے حل کے لیے اکثر ایسے کام کر ڈالتی ہے جو اس نے اس سے پہلے سوچا بھی نہیں تھا۔ سابقہ تجربات اس کو زیادہ سمجھدار اور محتاط بنا دیتے ہیں، اور اس طرح وہ اس قابل ہو جاتی ہے کہ اگر وہ دوبارہ کسی سے رشتہ نکاح میں منسلک ہو تو زیادہ کامیابی کے ساتھ رشتے کو نباہ سکے وغیرہ۔ کتاب "خاتونِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 291۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.