متاع کا مطلب طلاق کے احکام میں سے ایک حکم وہ ہے جس کے لیے قرآن میں "متاع" کا لفظ آیا ہے۔ اس سلسلے میں سورہ البقرہ کی دو آیتیں حسبِ ذیل ہیں: لا جناح عليكم إن طلقتم النساء ما لم تمسوهن أو تفرضوا لهن فريضة ومتعوهن. على الموسع قدره وعلى المقتر قدره متاع بالمعروف حقاً على المحسنين. سورہ نمبر 2 آیت 236: یعنی تم پر کچھ گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو اس وقت طلاق دو کہ ان کو تم نے ہاتھ نہ لگایا ہو، اور ان کے لیے کچھ مہر مقرر نہ کیا ہو، اور ان کو کچھ دو وسعت والے پر اس کے موافق ہے اور تنگی والے پر اس کے موافق ہے۔
دستور کے مطابق لازم ہے نیکی کرنے والوں پر۔ وللمطلقات متاع بالمعروف حقاً على المتقين. سورہ نمبر 2 آیت 241: یعنی اور طلاق دی ہوئی عورتوں کو فائدہ دینا ہے دستور کے موافق، لازم ہے پرہیزگاروں کے لیے۔ فقہی تفصیلات سے قطع نظر، پہلی آیت سورہ نمبر 2 آیت 236 کا سادہ مطلب یہ ہے کہ نکاح کے وقت اگر مہر نہیں ٹھہرایا گیا تھا اور نہ مرد نے عورت کو ہاتھ لگایا تھا، اور اس سے پہلے مرد نے طلاق دے دیا، تو مرد پر لازم ہے کہ عورت کو رخصت کرتے ہوئے اسے کچھ دے۔
یہ "دینا" اپنی حیثیت کے مطابق ہوگا، ایسی صورت میں مہر دینا لازم نہیں۔ دوسری آیت سورہ نمبر 2 آیت 241 میں یہی حکم عمومی انداز میں طلاق کے تمام واقعات کے لیے ہے۔ جب بھی کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے تو آخری علیحدگی کے وقت اس کو چاہیے کہ حسنِ جدائی کی علامت کے طور پر عورت کو کچھ دے، مثلاً کپڑا یا اور کوئی چیز۔ بعض فقہاء کے نزدیک پہلی صورت میں متاع دینا ضروری ہے، جبکہ دوسری صورت میں متاع دینا صرف مستحب ہے۔
کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 290۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.