← Khatun-e-IslamKhatun-e-Islam
Mutawazin ta'leem
Urdu · 8 min
متوازن تعلیم: کسی معاملے میں جب دو فریق ہوں تو سوچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دونوں اپنی اپنی طرف دیکھیں، اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دونوں دوسرے کی طرف دیکھیں۔ پہلے طریقے میں آدمی کی نگاہ اپنی ذمہ داریوں پر ہوتی ہے، اور دوسرے طریقے میں آدمی کی نگاہ اپنے حقوق پر۔ پہلا طریقہ اصلاح کی طرف لے جاتا ہے، اور دوسرا طریقہ فساد کی طرف۔ جب آدمی کی نظر اپنے حقوق پر ہو تو اس کی تمام تر توجہ معاملے کے دوسرے فریق کی طرف چلی جاتی ہے۔
وہ ہر چیز کا ذمہ دار فریق ثانی کو ٹھہرانے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر ضد اور انتقام کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ اپنے حصے کا کام انجام نہیں دیتا، وہ چاہنے لگتا ہے کہ سب کچھ صرف فریق ثانی کرے، خود اسے کچھ نہ کرنا ہو۔ اس کے برعکس، جب آدمی کی نظر اپنی ذمہ داریوں پر ہو تو اس کی ساری توجہ خود اپنے آپ پر لگ جاتی ہے۔
وہ اپنے حصے کی کوتاہیوں کو تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کے اندر سنجیدگی اور خود احتسابی کی نفسیات جاگتی ہے۔ وہ اپنی طاقتوں کو تخریب کے بجائے تعمیر پر لگانے کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ عمل دوسرے فریق کو بھی سنجیدہ بنا دیتا ہے۔
وہ اپنے حصے کی ذمہ داریوں کو ادا کر کے دوسرے فریق کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے حصے کی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔ یہی دوسرا طریقہ اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام اگر دیکھتا ہے کہ کسی معاملے میں ایک فریق نسبتاً کمزور ہے تو اس کو صبر کی طرف متوجہ کرتا ہے، اور دوسرا فریق اگر کسی وجہ سے طاقتور حیثیت کا مالک ہے تو اس کو وہ عدل اور انصاف کی تاکید کرتا ہے۔ شوہر اور بیوی کے تعلقات کے بارے میں اسلام کی جو ہدایات ہیں، وہ بعض پہلوؤں سے اسی اصول پر مبنی ہیں۔
صنفی بناوٹ کے اعتبار سے عورت کمزور فریق ہے، اور مرد طاقتور فریق۔ اس لیے اسلام نے اپنی ہدایات میں دونوں کے اس فرق کو ملحوظ رکھا ہے، تاکہ دونوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی اور موافقت کی فضا پیدا ہو، اور کسی رکاوٹ کے بغیر گھر کی تعمیر ممکن ہو سکے۔ عورتوں کے بارے میں اسلام یہ تاکید کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر انقیاد کا مزاج پیدا کریں۔ وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کرنے والی بنیں۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ سورہ نمبر 4 آیت 34۔ یعنی صالح عورتیں اپنے شوہروں کی فرمانبردار ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے اس آیت کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے: وَالْمُطِيعَاتُ لِأَزْوَاجِهِنَّ یعنی اپنے شوہروں کی اطاعت کرنے والی عورتیں۔ تفسیر ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 293۔
عورت کو اپنے شوہر کا اطاعت گزار بنانے کا مطلب دراصل اس کے اندر اس صالح مزاج کو پرورش کرنا ہے، جس کے بعد وہ اپنے شوہر کی سچی رفیق بن سکے۔ جس کے نتیجے میں اس کے گھر کے اندر تعمیری فضا پیدا ہو، نہ کہ لڑائی جھگڑے کی فضا۔ اطاعت گزار بیوی اپنے شوہر کے دل کو جیت کر گھر کی مالک بن جاتی ہے۔ وہ گھر کے اندر سب سے اونچی جگہ حاصل کر لیتی ہے۔
اس کے برعکس، غیر اطاعت گزار بیوی کے حصے میں صرف یہ آتا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر اپنے شوہر سے لڑتی رہے، اور اس کا نتیجہ اس کو یہ ملے کہ اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے تلخ ہو کر رہ جائے۔ دوسری طرف، اسلام مرد کے اندر یہ مزاج بنانا چاہتا ہے کہ وہ کسی حال میں عدل سے نہ ہٹے۔ وہ گھر کے اندر اپنی خوامیت کو استعمال کرتے ہوئے یہ نہ بھولے کہ موت کے بعد اس کا معاملہ سب سے بڑے خوام اور سب سے بڑے حاکم کے سامنے پیش آنے والا ہے۔ وہاں اس آدمی کا معاملہ سخت ہوگا جو دنیا میں اپنے زیر دستوں کے ساتھ سختی کرے، اور وہاں اس کا معاملہ نرم ہوگا جو دنیا میں اپنے زیر دستوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرے۔
اس سلسلے میں ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے: أَنَا عَيْشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ سنن الترمذی، حدیث نمبر 3895۔ سنن دارمی، حدیث نمبر 2282۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1977۔ یعنی حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔
" اس حدیث کے مطابق آدمی کا گھر اس کا مقامِ حکومت نہیں، بلکہ اس کا مقامِ تربیت ہے۔ جو شخص گھر کے نظام میں بہتر ثابت ہو، وہ پورے سماج اور پوری قوم کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔ اس کے برعکس، جو شخص گھر کے نظام میں برا ثابت ہو، وہ سماج اور قوم کے لیے بھی ایک برا انسان ہوگا۔ پہلا آدمی وسیع تر انسانیت کے لیے رحمت ہے، اور دوسرا آدمی وسیع تر انسانیت کے لیے عذاب۔
عورت اور مرد کے حقوق کا معاملہ، بااعتبارِ حقیقت، کسی فقہی فہرست کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ حسنِ معاشرت کا معاملہ ہے۔ اس سلسلے میں جو فہرست بتائی گئی ہے، وہ اسی حسنِ معاشرت کے علامتی پہلو ہیں، نہ کہ بذاتِ خود کوئی مکمل فہرست۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات میں کبھی کوئی مکمل فہرست نہیں بنائی جا سکتی۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ دونوں فریق فطری حقیقتوں کا اعتراف کریں، دونوں فریق حقوق سے زیادہ ذمہ داریوں پر نگاہ رکھیں، دونوں فریق اپنی ذات سے زیادہ مشترک مقصد یعنی خاندانی نظام کی برقراری کو اصل اہمیت کی چیز بنائیں، اور اس مقصد کی خاطر ہر ذاتی قربانی کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔
اچھا گھر اچھا مزاج رکھنے والے لوگوں کے ذریعے بنتا ہے۔ ایک اچھے خاندان کی تعمیر وہ مرد اور عورت کرتے ہیں جو اس سے پہلے خود اپنے شعور کی تعمیر کر چکے ہوں۔ شادی شدہ زندگی کی کامیابی کا راز فہرستِ احکام سے واقفیت سے زیادہ اس پر منحصر ہے کہ عورت اور مرد حقائقِ حیات سے واقف ہوں۔ جو لوگ زندگی کی حقیقتوں کو جانیں، وہ کبھی ناکام نہیں ہو سکتے، اور جو لوگ زندگی کی حقیقتوں کو نہ جانیں، ان کے لیے اس دنیا میں کامیاب ہونا بھی مقدر نہیں۔
کتاب "خاتونِ اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 280۔