Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Zaher se ziyada batin ko dekhna

Urdu · 5 min

ظاہر سے زیادہ باطن کو دیکھنا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ تم کو ایک چیز ناپسند ہو اور اللہ نے اس میں بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَا أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا.

سورہ نمبر 4، آیت 19۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے کہ کوئی مومن کسی مومنہ سے نفرت نہ کرے۔ اگر اس کی ایک خصلت مرد کو پسند نہ آئے تو اس کی دوسری خصلت اس کی پسند کے مطابق ہوگی۔ لَا يَفْرَقُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً إِنْ سَخِطَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ.

صحیح مسلم، حدیث نمبر 1469۔ اس تعلیم کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ کسی ظاہری ناپسندیدگی کو دیکھ کر اس سے بیزار نہ ہو جاؤ۔ کیونکہ خدا نے کسی کو ہر اعتبار سے ناقص نہیں بنایا۔ ہر عورت یا مرد کا معاملہ یہ ہے کہ اگر ایک اعتبار سے اس کے اندر کمی ہے تو کسی اور اعتبار سے اس میں زیادتی بھی ضرور موجود ہوگی۔

ایک شخص نے شادی کی، اس کی بیوی آئی تو اس نے دیکھا کہ وہ نازک اندام نہیں ہے بلکہ مضبوط ہاتھ پاؤں والی ہے اور دیکھنے میں نیم مرد معلوم ہوتی ہے۔ وہ نازک اندام بیوی چاہتا تھا، اس لیے بھاری بھرکم قسم کی بیوی کو دیکھ کر اس سے بیزار رہنے لگا۔ مگر جلد ہی حالات بدلے۔ مرد کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے وہ زیادہ کام کرنے کے قابل نہ رہا۔

اب بیوی نے طے کیا کہ وہ اپنے شوہر کا سہارا بنے گی۔ اس نے بھرپور محنت کر کے روزی کمانا شروع کیا۔ وہ چونکہ طاقتور اور مضبوط ہاتھ پاؤں والی تھی، اپنے کام میں کامیاب رہی۔ اس کی وجہ سے گھر میں ماخول پیسے آنے لگے۔

شوہر کا روزگار چھوٹنے کا کوئی اثر گھر کے مالیاتی نظام پر نہیں پڑا۔ اب شوہر کو معلوم ہوا کہ وہ بیوی جس کو اس نے اپنے لیے زحمت سمجھ لیا تھا، وہ اس کے لیے عظیم رحمت تھی۔ اس کی بیوی کے اندر اگرچہ نازک اندامی کی صفت نہ تھی، مگر اس کے اندر ایک اور نہایت قیمتی صفت تھی، یعنی شوہر کی معذوری کے وقت اس کا معاشی سہارا بننا۔ زندگی کی یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِيهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ.

سورہ نمبر 24، آیت 32۔ یعنی تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو صالح ہوں، ان کا نکاح کر دو۔ اگر وہ مفلص ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ یہی بات ایک حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُمْ الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.

سنن الترمذی، حدیث نمبر 495۔ یعنی تین شخص ہیں کہ ان کی مدد اللہ کے ذمے ہے۔ یعنی تین شخص ہیں کہ ان کی مدد اللہ کے ذمے ہے۔ وہ نکاح کرنے والا جو طالب عفت ہو، اور وہ مکاتب جو مال ادا کر کے آزاد ہونا چاہتا ہو، اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا۔

کتاب، خاتون اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 278۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.