بہترین عورت ایک حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: «أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ » قَالَ: «الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا وَلَا فِي مَالِهِ». مسند احمد، حدیث نمبر 9587۔ یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ عورتوں میں سب سے بہتر عورت کون ہے؟
آپ نے فرمایا کہ وہ جو اپنے شوہر کو خوش کر دے جب کہ وہ اسے دیکھے، اور وہ اپنے شوہر کی اطاعت کرے جب کہ وہ اس کو حکم دے، اور وہ اپنے نفس اور اس کے مال میں شوہر کے خلاف نہ کرے۔ اس حدیث میں نہایت عمدہ طور پر وہ حقوق بتا دیے گئے ہیں جو عورت کے اوپر مرد کی طرف سے عائد ہوتے ہیں۔ مرد باہر کی دنیا کی تلخیاں جھیل کر گھر کے اندر داخل ہوتا ہے۔ اب بہترین بیوی وہ ہے جو مرد کی تلخیوں کو مسرت میں تبدیل کر دے۔
وہ اپنے شوہر کے لیے سکون کا گوشہ بن جائے۔ اسی طرح مرد مختلف تقاضوں کے تحت اپنی بیوی کو ایک ہدایت دیتا ہے۔ اس کے پیچھے بہت سی داخلی اور خارجی مصلحتیں شامل رہتی ہیں۔ اب عورت کو چاہیے کہ وہ کامیاب رفیقِ حیات کی طرح اس کی تعمیل میں لگ جائے۔
وہ گھر کے اندر کوئی مسئلہ کھڑا کیے بغیر مرد کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچائے۔ اسی طرح عورت کا اپنا وجود اور گھر کا پورا اثاثہ عورت کے پاس گویا مرد کی امانت ہے۔ مرد اپنی بیرونی مصروفیات کی وجہ سے ان چیزوں کی رکھوالی نہیں کر سکتا۔ اب عورت کی وفا شعاری کا تقاضا ہے کہ ان امور میں وہ پوری طرح اپنے شوہر کی امین بن جائے۔
وہ اپنی ذات کو بھی صرف اپنے شوہر کے لیے محفوظ رکھے، اور گھر کے تمام ساز و سامان کو بھی۔ عورت مرد کے لیے ذریعۂ سکون ہے۔ اسی کے ساتھ وہ گھر کے اندر مرد کے نائب کی حیثیت رکھتی ہے۔ بہترین عورت وہ ہے جو ان دونوں قسم کی ذمہ داریوں میں پوری اترے۔
یہی وہ عورت ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ «لَيْسَ مِنْ مَّتَاعِ الدُّنْيَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنَ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ». سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1855۔ یعنی: دنیا کے سرمائے میں کوئی چیز صالح بیوی سے زیادہ بہتر نہیں۔ کتاب: خاتونِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 277۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.