Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Ghar ka intezaam

Urdu · 3 min

گھر کا انتظام۔ قرآن میں عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ سورہ نمبر 33، آیت 33۔ یعنی: "اور تم اپنے گھر میں قرار سے رہو"۔ مفسرین نے اس کی تشریح "الزمن بيوتكن" یا "أُمِرَ بالقرار في البيوت" کے الفاظ سے کی ہے، یعنی اپنے گھروں میں ٹھہرو، اپنے گھروں کو اپنا دائرۂ عمل بناؤ۔

موجودہ زمانے میں عورت بیرونی نمائش کا ایک سامان بن کر رہ گئی ہے؛ اسلام کا نقشہ اس کے مقابلے میں یہ ہے کہ عورت گھر کے اندر رہے، اور داخلی ذمہ داریوں کو سنبھالے۔ گھر کا انتظام، افرادِ خاندان کی خانگی ضروریات، امورِ خانہ داری کا بندوبست، بچوں کی دیکھ بھال—یہ سب عورت کی ذمہ داری ہے، اور یہ سب "وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ" میں شامل ہے۔ گھر کو سنبھالنا، چھوٹے پیمانے پر ایک ریاست کو سنبھالنا ہے؛ یہ اتنا ہی اہم اور معزز کام ہے جتنا ملکی ریاست کا کام ہو سکتا ہے۔ عورت کو چاہیے کہ وہ گھر کے معاملات کا انتظام ایک باعزت ذمہ داری کے طور پر کرے۔

گھر کو معیاری گھر بنانے میں وہ اپنی پوری صلاحیت وقف کر دے۔ وہ گھر کے باغ کی مالی بن جائے۔ یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المرأة في بيت زوجها راعيةٌ وهي مسؤولةٌ عن رعيتها ۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 5188۔

صحیح مسلم، حدیث نمبر 1829۔ یعنی: عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے، اور وہ اس کی جواب دہ ہے۔ گھر، گھرِ ہستی، یا امورِ خانہ داری کی مہارت—یہ عورت کا سب سے بڑا زیور ہے۔ جو مسلم عورت اس زیور سے مزین ہو، وہی کامل عورت ہے۔

جو عورت اس امتحان میں پوری اترے، وہی اللہ کے یہاں عزت اور کامیابی کی مستحق قرار دی جائے گی۔ جو عورت دنیا میں ایک مکان کو آباد کرے، وہی جنت کے زیادہ اعلیٰ مکان میں آبادکاری کے لیے منتخب کی جائے گی۔ کتاب "خاتونِ اسلام"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 276۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.