نکاح و طلاق: ایک مرد اور ایک عورت جب اپنے آپ کو نکاح کے رشتے میں وابستہ کرتے ہیں تو ہمیشہ اسی جذبے کے تحت وابستہ کرتے ہیں کہ دونوں ساری عمر ایک ساتھ رہیں گے اور ایک ساتھ زندگی گزاریں گے۔ اس کے بعد جب قدرت ان کے درمیان ایک بچہ پیدا کرتی ہے تو یہ گویا ایک قسم کی زنجیر ہوتی ہے، جو اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ دونوں زیادہ گہرائی اور پائیداری کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہو چکے ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 میں مغربی ملکوں کے اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ بے اولاد جوڑوں میں طلاق کا رجحان اس سے زیادہ پایا گیا جتنا کہ ان جوڑوں میں جو صاحبِ اولاد ہیں۔ Childless couples tend to have a higher divorce rate than couples with children.
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 7، پیج 163 سے 164۔ ایک مغربی جج نے اپنے فیصلے میں اس فطری حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ "ہر چھوٹا بچہ جو ایک جوڑے کے یہاں پیدا ہو، وہ ایک مزید ضمانت ہے کہ ان کی شادی کسی طلاق کی عدالت میں کبھی ختم نہ ہوگی۔ " Every little youngster born to a couple is an added assurance that their marriage will never be dissolved in a divorce court. تاہم، اس قسم کی تمام فطری اور نفسیاتی بندھنوں کے باوجود کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد یا عورت یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ دونوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔
قدیم زمانے میں یہ صورتحال بہت کم پیش آتی تھی، مگر موجودہ زمانے میں خاص طور پر مغربی ملکوں میں طلاقوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ طلاق زندگی کی ایک حقیقت ہے، مگر طلاق کی کثرت بلاشبہ ایک نئی چیز ہے جو موجودہ زمانے میں مختلف اسباب کے تحت پیدا ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک سبب عورتوں کے لیے روزگار کی آسانی بھی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 کے مخالصہ نگار نے لکھا ہے کہ صنعتی دور نے عورتوں کے لیے یہ بات زیادہ آسان کر دی کہ وہ اپنی معاش خود حاصل کر سکیں، خواہ وہ تنخواہ ہوں یا شادی شدہ ہوں۔
خواہ وہ تنہا ہوں یا شادی شدہ ہوں یا متعلقہ ہوں یا بیوہ ہوں۔ اس سلسلے میں یہ بات دلچسپی کے ساتھ نوٹ کرنے کی ہے کہ 1930 کے بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والی عظیم کساد بازاری نے امریکہ میں طلاقوں کے اضافے کی تعداد کو ایک عرصے کے لیے روک دیا تھا۔ Industrialization has made it easier for women to support themselves whether they are single, married, divorced, divorced, or widowed. In this connection, it is interesting to note that the Great Depression of the 1930s stopped the rise in the number of divorces in the United States for a time.
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 7، پیج 163۔ کتاب: خاتونِ اسلام، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 284۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.