مہر نکاح کے بعد سب سے پہلی ذمہ داری جو مرد کے اوپر اپنی بیوی کے سلسلے میں عائد ہوتی ہے، وہ یہ کہ وہ مقررہ مہر اسے ادا کرے۔ وَآتِ النِّسَاءَ صَدْقَاتِهِنَّ نِحْلَةً سورہ نمبر 4، آیت 4۔ یعنی: "اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو"۔ یہ مہر عورت کے اوپر حقوق زوجیت حاصل کرنے کا معاوضہ نہیں ہے۔
حقوق زوجیت کا معاملہ اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ مہر کی مروجہ رقم اس کا معاوضہ بن سکے۔ مہر کی یہ رقم دراصل ایک علامتی رقم ہے؛ وہ ہونے والی بیوی کے لیے اس ذمہ داری کو قبول کرنے کی ایک مادی علامت ہے، جو مرد کو زندگی کے آخری لمحے تک ادا کرنا ہے۔ یہ ذمہ داری کیا ہے؟ یہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تا حیات عورت کا نگراں اور کفیل رہے گا۔
خاندانی تنظیم میں شریعت نے اصلاً عورت کے ذمے یہ کام کیا ہے کہ وہ گھر کو سنبھالے، وہ اگلی نسل کی پرورش اور تربیت کرے۔ یہ کام ایک غیر نفع آور کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت کی کفالت کو مرد کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ اگر عورت کے اوپر بیک وقت دونوں ذمہ داری ڈال دی جائیں، وہ گھر کے نظام کو بھی سنبھالے، اور اسی کے ساتھ وہ اپنی معاش بھی پیدا کرے، تو وہ دونوں میں سے کسی کام کو بھی ٹھیک طور پر انجام نہ دے سکے گی۔
اس لیے اس کی معاشی کفالت کو مرد کے ذمے رکھا گیا ہے، تاکہ گھر کے نظام کے اعلیٰ بندوبست کی ضمانت ہو سکے۔ ازدواجی تعلق کے آغاز میں، مہر کی صورت میں ایک رقم دے کر مرد علامتی طور پر یہ عہد کرتا ہے کہ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 270.
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.