نفقہ۔ مہر کے ذریعے مرد جو علامتی عہد کرتا ہے، اسی کی متعین مالیاتی صورت کو نفقہ کہا جاتا ہے۔ ہر عہدہ اپنے ساتھ ذمہ داری لاتا ہے۔ مرد کا خوام ہونا ایک عہدہ ہے، اور اس عہدے کی ذمہ داری کا نام نفقہ ہے۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے: الرجال قوامون على النساء بما فضل الله بعضهم على بعض وبما أنفقوا من أموالهم. سورہ نمبر 4 آیت 34۔ یعنی مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں۔ اس لیے کہ اللہ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور اس لیے کہ انہوں نے اپنے مال خرچ کیے۔
گھر کی ریاست میں مرد کو خوام یعنی سربراہ بنایا گیا ہے۔ اس کی وجہ عورت کے اوپر مرد کی پیدائشی فضیلت ہے۔ تاہم اس سے مراد مطلق یا کلی فضیلت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد صرف وہ فضیلت یا خصوصیت ہے جو مرد کے لیے قوامیت کا استحقاق ثابت کرتی ہے۔ آیت میں "بعض کو بعض پر فضیلت" کا لفظ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کو کسی نہ کسی اعتبار سے دوسرے کے اوپر فضیلت حاصل ہے۔
قوامیت کے لیے جو صفات درکار ہیں، وہ مرد کے اندر زیادہ ہیں۔ اس لیے مرد کو گھر کا خوام بنایا گیا ہے۔ اس کے برعکس، گھر سنبھالنے اور نئی نسل کی پرورش اور تربیت کے لیے جو صفات درکار ہیں، وہ مقابلتاً عورت کے اندر زیادہ ہیں۔ عورت کی اسی افضلیت کی بنا پر اس کو گھر کے اندرونی امور کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔
عورت کے لیے نفقے کا حق مرد کے اوپر اس کا ایک قانونی حق ہے۔ مرد اگر اس کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو عورت اس کو عدالت کے ذریعے وصول کر سکتی ہے۔ تاہم اس کی مقدار کا تعین مرد کی استطاعت کے لحاظ سے ہوگا۔ استطاعت اگر زیادہ ہے تو اس کی مقدار زیادہ ہوگی، اور استطاعت اگر کم ہے تو اس کی مقدار بھی اسی نسبت سے کم ہو جائے گی۔
کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 271۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.