عورت کے مقابلے میں مرد کی حیثیت۔ عورت اور مرد جب باہم ازدواجی زندگی میں منسلک ہوتے ہیں تو اس کے بعد لازمی طور پر ایک اجتماعی ادارہ وجود میں آتا ہے، جس کا نام خاندان ہے۔ ہر اجتماعی ادارے کی طرح، اس اجتماعی ادارے کی بھی ایک ضرورت ہوتی ہے، اور وہ یہ کہ اس ادارے کا ناظم اور نگراں کون ہو۔ اسلام نے خاندانی ادارے کے انتظام اور نگرانی کے لیے مرد کا انتخاب کیا ہے۔
الرجال قوامون على النساء سورہ نمبر 4 آیت 34۔ یعنی مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں۔ مرد کو قوام بنانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد عورت سے افضل ہے۔ یہ تقرر انتظامی بنیاد پر ہے، نہ کہ افضلیت کی بنیاد پر۔
جمہوری نظام میں ہر آدمی کے لیے یکساں درجہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود جب حکومت قائم کی جاتی ہے تو ایک شخص کو حاکم، یعنی بالفاظ دیگر قوام، مقرر کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ یہ حاکم دوسرے شہریوں کے مقابلے میں افضل یا برتر ہے۔ جمہوری نظام میں صدر یا وزیراعظم کا ووٹ بھی ایک ہوتا ہے، جس طرح عام افرادِ قوم کا صرف ایک ووٹ ہوتا ہے۔
اس کے باوجود انتظامی مصلحت کے تحت ایک شخص کو دوسروں کے اوپر حاکمانہ اختیار تفویض کیا جاتا ہے۔ انتظامی تقسیم کے علاوہ، درجے کے اعتبار سے عورت اور مرد دونوں بالکل یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک عورت اگر ایک مرد کو قتل کرے تو جرم ثابت ہونے کے بعد عورت سے قصاص لیا جائے گا۔ اسی طرح ایک مرد اگر ایک عورت کو قتل کر دے تو جرم ثابت ہونے کے بعد مرد سے اس کا قصاص لیا جائے گا، جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے: إن الرجل يقتل بالمرأة یعنی بے شک عورت کے بدلے مرد کو قتل کیا جائے گا۔
سنن الدارمی، حدیث نمبر 2399۔ شریعت کی نظر میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی قانونی تفریق نہیں۔ جو قانون مرد کے لیے ہے، وہی قانون عورت کے لیے بھی ہے۔ جو چیز ایک کے لیے ہے، وہی دوسرے کے لیے ہے۔
جو چیز ایک کے لیے نہیں، وہ دوسرے کے لیے بھی نہیں۔ کتاب خاتون اسلام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 269۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.