شریکِ حیات مرد اور عورت، یا میاں اور بیوی، کے حقوق و فرائض جس بنیادی اصول کے تحت متعین ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے شریکِ حیات ہیں۔ یہ بنیادی اصول قرآن کی اس آیت سے نکلتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عورت اور مرد آپس میں ایک دوسرے کا جز ہیں۔ بعضکم من بعض سورہ نمبر 3، آیت 195۔ عورت اور مرد کی یہ باہمی حیثیت کہ وہ ایک دوسرے کی زندگی کا حصہ، یا ایک دوسرے کے رفیقِ حیات ہیں، یہی وہ بنیادی اصول ہے جس سے یہ متعین ہوتا ہے کہ ایک کے اوپر دوسرے کا حق کیا ہے، اور ایک کو دوسرے کے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں کیا کرنا چاہیے۔
اس اعتبار سے جدید تہذیب اور اسلامی شریعت کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ جدید تہذیب عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا ہمسر قرار دیتی ہے، اور اسلامی شریعت کے نزدیک عورت اور مرد ایک دوسرے کے شریکِ حیات ہیں۔ اسی فرق میں دونوں کے معاشرتی نظام کے فرق کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 268۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.