Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Khatun-e-Islam
Khatun-e-Islam

Shareek-e-hayaat

Urdu · 2 min

شریکِ حیات مرد اور عورت، یا میاں اور بیوی، کے حقوق و فرائض جس بنیادی اصول کے تحت متعین ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے شریکِ حیات ہیں۔ یہ بنیادی اصول قرآن کی اس آیت سے نکلتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عورت اور مرد آپس میں ایک دوسرے کا جز ہیں۔ بعضکم من بعض سورہ نمبر 3، آیت 195۔ عورت اور مرد کی یہ باہمی حیثیت کہ وہ ایک دوسرے کی زندگی کا حصہ، یا ایک دوسرے کے رفیقِ حیات ہیں، یہی وہ بنیادی اصول ہے جس سے یہ متعین ہوتا ہے کہ ایک کے اوپر دوسرے کا حق کیا ہے، اور ایک کو دوسرے کے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں کیا کرنا چاہیے۔

اس اعتبار سے جدید تہذیب اور اسلامی شریعت کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ جدید تہذیب عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا ہمسر قرار دیتی ہے، اور اسلامی شریعت کے نزدیک عورت اور مرد ایک دوسرے کے شریکِ حیات ہیں۔ اسی فرق میں دونوں کے معاشرتی نظام کے فرق کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کتاب "خاتون اسلام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 268۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.